’ڈیانا کی ہلاکت میں فوج کے خلاف کوئی شواہد نہیں‘

Image caption شہزادی ڈیانا کی ہلاکت کی تفتیش تین سال تک جاری رہی تھی

برطانیہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ شہزادی ڈیانا اور ان کے ساتھی دودی الفاید کی ہلاکت میں برطانوی فوجی ملوث تھے۔

اگست میں لندن پولیس کو ایسے شواہد ملے تھے جن سے اشارہ ملتا تھا کہ 1997 میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والے کار حادثے میں برطانوی فوج کا ہاتھ تھا۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ابتدائی تفتیش کے بعد انھیں ایسی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ملی جس کی بنا پر مجرمانہ مقدمہ شروع کیا جائے۔

2008 میں ایک تفتیش کے مطابق شہزادی ڈیانا اور دودی الفاید اپنے ڈرائیور کی ’شدید لا پروائی‘ کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

اگست میں چند برطانوی اخباروں میں کچھ ایسی اطلاعات شائع ہوئی تھیں جن کے مطابق پولیس کو فوج کے ملوث ہونے کی معلومات فوجی ذرائع سے حاصل ہوئی تھیں۔

منگل کے روز لندن پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ تفتیش متعدد افراد کے بیانات جمع کر کے اور ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ لے کر کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسران کو پہلے سے کہیں زیادہ حد تک سپیشل فورسز ڈائریکٹوریٹ تک رسائی دی گئی۔

Image caption پرنس آف ویلز کی سابقہ اہلیہ اور شہزادوں ولیم اور ہیری کی والدہ شہزادی ڈیانا جب 1997 میں ہلاک ہوئیں تو ان کی عمر 36 برس تھی

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہر ممکن تفتیشی سوال کو پرکھا گیا تاکہ تمام ممکنہ شواہد کا جائزہ لیا جا سکے۔

’ہم اس حتمی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگرچہ اس بات کا امکان ہے کہ ان واقعات میں ایس اے ایس کے ملوث ہونے کے بیانات آئیں، ہمارے پاس ایسے کوئی قابلِ اعتماد شواہد نہیں ہیں کہ ان بیانات میں کوئی صداقت ہے۔‘

لندن کے معروف سٹور ہیرڈز کے سابق مالک اور دودی الفاید کے والد محمد الفاید کے وکیل نے ان کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اس نتیجے سے مایوس ضرور ہوئے ہیں مگر حوصلہ نہیں ہارے ہیں۔

انہوں نے اس تفتیش کو ’حقیقت چھپانے کی 16 سال طویل داستان کی ایک کڑی کہا ہے۔‘

پرنس آف ویلز کی سابقہ اہلیہ اور شہزادوں ولیم اور ہیری کی والدہ، شہزادی ڈیانا جب 42 سالہ دودی الفاید کے ساتھ ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوئیں تو ان کی عمر 36 سال تھی۔

جب پیرس میں یہ حادثہ پیش آیا اس وقت ان کی مرسیڈیز گاڑی ہینری پال نامی ایک ڈرائیور چلا رہا تھا۔

یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب دونوں نے اخباری فوٹوگرافروں سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس حادثے میں صرف دودی الفاید کا محافظ ٹریور ری جونز زندہ بچا تھا۔

ان ہلاکتوں کی تفتیش نے گاڑی کے ڈرائیور اور صحافیوں کی لاپروائی کو حادثے کی وجہ قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں