یمن: جہیز میں فیس بک پر دس لاکھ لائیک کا مطالبہ

Image caption یمن میں لڑکی کا والد لڑکے سے جہیز کا مطالبہ کرتا ہے: فائل فوٹو

یمن میں ایک باپ نے بیٹی کے جہیز کے لیے رقم نہیں بلکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر دس لاکھ لائیکس کا مطالبہ کیا ہے۔

یمن میں معاشرہ بہت روایتی ہے لیکن اس مطالبے نے ایک جدید رجحان کو جنم دیا ہے جہاں دلہن کا والد جہیز کی رقم طے کرتا ہے۔

یمن کے شہر تعز کے رہائشی اور شاعر سلیم عش نے دولہا کو اپنی بیٹی کا ہاتھ دینے کے بدلے میں جہیز کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ فیس بک پر دس لاکھ لائیکس مانگی ہیں۔

یمن کی آبادی ڈھائی کروڑ ہے اور انٹرنیٹ کے استعمال کی شرح بہت کم ہے۔

یمن کے ایک صحافی برشرحیل کے مطابق اس طرح کا مطالبہ پہلی بار سننے میں آیا ہے۔

برشرحیل کے مطابق جہیز میں لائیکس کے مطالبے کی خبر پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر خوب باتیں ہو رہی ہیں اور بلاگرز لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ صفحے کو لائیک کریں تاکہ یہ جوڑا شادی کر سکے۔

فیس بک پر اتوار کو صفحہ بنایا گیا تھا اور اب تک اس کو 30 ہزار افراد پسند یا لائیک کر چکے ہیں۔

سیلم عش کے مطابق یمن میں اب جہیز کوئی برداشت نہیں کر سکتا اور اسی وجہ سے انھوں نے رقم اور سونے کے بدلے میں ڈیجیٹل جہیز کا مطالبہ کیا ہے۔

یمن میں اس مسئلے پر بہت زیادہ بحث ہو رہی ہے کہ مرد جہیز برداشت نہیں کر سکتے اور اسی وجہ سے بہت سے لوگ شادی نہیں کر پاتے۔

گذشتہ کئی سال کے دوران متعدد بار کوشش کی گئی ہے کہ جہیز کی رقم مقرر کر دی جائے۔

ملک میں اکثر جہیز کی رقم ادا کرنے میں ہمسایے مدد کرتے ہیں اور اسی وجہ سے اجتماعی شادیوں کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے تاکہ اخراجات سے بچا جا سکے۔

سلیم عش کے فیس بک صفحے پر لوگوں کی رائے منقسم نظر آتی ہے۔ اس میں بہت سے لوگوں نے جہیز کی رقم کا مسئلے اٹھانے پر شکریہ ادا کیا ہے جب کہ دوسروں نے سلیم کے اقدام پر متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔

’شہرت حاصل کرنے کے لیے اپنی بیٹی کا استعمال کیا، فیس بک پر لائیک ان کے ذاتی صفحے کے لیے ہیں اور اس کا ان کی بیٹی اور اس کے شوہر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

سلیم عیش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی کا ہونے والا شوہر دس لاکھ لائیک کے لیے کتنی کوشش کرتا ہے اور اگر وہ سخت محنت کرتا ہے تو وہ دونوں کو خوشی سے شادی کرتا دیکھنے کے لیے لچک کا مظاہرہ بھی کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں