سوئٹزرلینڈ میں عام بنیادی آمدنی کی تجویز پر ریفرینڈم

Image caption سوئس نوجوانوں میں اس خیال کو بےحد پسند کیا جا رہا ہے

دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک سوئٹزرلینڈ میں اس متنازع معاملے پر ریفرینڈم ہونے والا ہے کہ ان تمام افراد کو جو ملک کے قانونی شہری ہیں، چاہے وہ کام کریں یا نہ کریں، بنیادی ماہانہ آمدن کی مد میں مخصوص رقم ادا کی جائے۔

سب کے لیے بنیادی آمدن کا خیال نیا نہیں اور 16ویں صدی میں ٹامس مور نے اپنی کتاب یوٹوپیا میں یہ تصور پیش کیا تھا۔

ایک طرف جہاں یہ خیال منصفانہ دکھائی دیتا ہے وہیں اسے ایسی پالیسی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو فلاح کی مد میں رقوم کی ادائیگی کے نظام کو ختم کر دے گی۔

بنیادی آمدن کے اس منصوبے کے حامی اینو شمٹ اس سکیم کے لیے سوئٹزرلینڈ کو بہترین ملک اور موجودہ حالات کو بہترین حالات قرار دیتے ہیں۔

برن میں بی بی سی کی نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سوئٹزرلینڈ یورپ یا شاید دنیا کی واحد جگہ ہے جہاں عوام کو براہِ راست جمہوریت سے صحیح فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے۔‘

براہِ راست جمہوریت کے نظام کا مطلب یہ ہے کہ سوئس عوام اگر چاہیں تو مفت بیئر حاصل کرنے کے لیے بھی ریفرینڈم منعقد کر سکتے ہیں۔

ملکی سطح پر ریفرینڈم کروانے کے لیے درخواست پر ایک لاکھ شہریوں کے دستخط درکار ہوتے ہیں اور اگر ایسا ہو تو نہ صرف ریفرنڈم کا انعقاد بلکہ اس کے نتیجے پر عمل کرنا بھی لازمی ہو جاتا ہے۔

حال ہی میں سوئس ووٹروں نے بینکوں کی جانب سے نقصان ظاہر کرنے کے باوجود اپنے عہدےداروں کو بونس دینے کے معاملے پر احتجاجاً سب کے لیے بنیادی آمدن کے معاملے پر باآسانی ایک لاکھ دستخط حاصل کر لیے اور اب حکومت جلد ہی اس معاملے پر ریفرینڈم کی تاریخ کا اعلان کرنے والی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں کاروباری حضرات نے اسے ایسی ’خوش کن دنیا‘ کی تجویز قرار دیا ہے جو ایک ایسی نوجوان نسل کی تخلیق ہے جس نے کبھی اقتصادی کساد بازاری یا بےروزگاری کا سامنا نہیں کیا۔

بہت سے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس منصوبے کی وجہ سے بہت سے لوگ کام کرنے سے کترائیں گے۔ اس وقت بھی سوئس کمپنیوں کو ہنرمند کارکنوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اینو شمٹ اس خیال سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈھائی ہزار سوئس فرانک کی مجوزہ رقم ملک میں گزارہ کرنے کے لیے بمشکل کافی ہے اور ویسے بھی ’وہ معاشرہ جہاں لوگ صرف رقم کمانے کے لیے کام کریں، غلامی کے دور سے بہتر نہیں‘۔

Image caption سوئٹزرلینڈ میں ریفرینڈم کے نتیجے پر عمل کرنا لازمی ہے

اس کے برعکس شمٹ کا دعویٰ ہے کہ سب کے لیے بنیادی آمدن سے لوگوں کو اپنی مرضی کا کام کرنے کی آزادی ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’خیال یہ نہیں کہ لوگ کم کام کریں بلکہ یہ ہے کہ انھیں اپنی پسند کا کام کرنے کی آزادی ہو۔‘

سوئس نوجوانوں میں اس خیال کو بےحد پسند کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے حامیوں نے ملک کی 80 لاکھ آبادی کے تناظر میں پانچ سینٹائم کے 80 لاکھ سکے اکٹھے کیے اور ان کی ملک بھر میں نمائش بھی کی۔

اس مہم میں شامل 25 سالہ چے واگنر زیورچ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں اور پیزا فروخت کرنے والی کمپنی کے ملازم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میری ایک بیٹی ہے اور میں اس کے لیے اس مہم کا حصہ بنا ہوں۔ مجھے اس کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے مگر ساتھ ہی کام بھی کرنا پڑتا ہے تاکہ ہم جی سکیں۔‘

ان کے مطابق: ’بنیادی آمدن کے ساتھ مجھے کام تو پھر بھی کرنا پڑے گا لیکن پھر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ چلو ایک ہفتہ اپنی بیٹی کے ساتھ گزار لوں۔‘

جب چے اور ان کے ساتھیوں نے وہ 80 لاکھ سکّے سوئس پارلیمان کے باہر ڈھیر کیے تو عمارت میں موجود سیاست دانوں نے بھی ان کے موقف کو یکسر رد نہیں کیا۔

دائیں بازو کی سوئس پیپلز پارٹی کی رکنِ پارلیمان لوزی سٹام نے کہا کہ ’ایک طریقے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ جب تک سوئٹزرلینڈ یورپی ممالک میں شہریوں کی آزادانہ نقل و حمل کے معاہدے کا حصہ ہے، اس قسم کا اقدام مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یقینی طور پر یہ سوئٹزرلینڈ جیسے ملک کے لیے صحیح نہیں جو امیر ملک تو ہے لیکن اس کی سرحدیں کھلی ہیں۔ یہ خودکشی کے مترادف ہے۔‘

ماہرِ معاشیات اور سوئس پارلیمان کے سابق رکن روڈولف سٹرام کم از کم تنخواہ کے خیال کے تو حامی ہیں لیکن سب کے لیے بنیادی آمدن کے حق میں نہیں کیونکہ ان کا بھی خیال ہے کہ اس سے لوگ کام کرنا چھوڑ دیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’نوجوانوں کے لیے تعلیم حاصل کرنے یا ہنر سیکھنے کا کوئی مقصد نہیں رہ جائے گا۔‘

سوال یہ ہے کہ اس قسم کے منصوبے پر کتنی رقم خرچ ہوگی؟

فی الحال یہ اعداد و شمار کوئی نہیں دے رہا تاہم حیران کن طور پر اس بارے میں بحث بھی نہیں ہو رہی کہ آیا سوئٹزرلینڈ کے لیے ایسا کرنا ممکن بھی ہے یا نہیں۔ اس بات پر اجماع دکھائی دیتا ہے کہ مالیاتی طور پر ایسا کرنا ممکن ہے۔

اسی بارے میں