’وسطی جمہوریہ افریقہ میں ہلاکتیں اندازوں سے دگنی‘

Image caption ایمنسٹی انٹرنیشنل کےمطابق وسطی جمہوریہ افریقہ میں جنگی جرائم بھی کیے جا رہے ہیں

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ وسطی جمہوریہ افریقہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اقوامِ متحدہ کے اندازوں سے دگنی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ وہاں باغیوں نے دو دن کے عرصے میں 1,000 سے زائد افراد کو ہلاک کیا جن میں خواتین اور چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کےمطابق قتل و غارت کے دوران عام شہریوں کے گھروں کو بھی لوٹا گیا اور وسطی جمہوریہ افریقہ میں جنگی جرائم بھی کیے جا رہے ہیں۔

عالمی تنظیم نے ایک پیغام میں اقوامِ متحدہ سے استدعا کی ہے کہ وہ قیامِ امن کے لیے ایک مشن وسطی جمہوریہ افریقہ بھیجے۔

جمہوریہ میں تشدد میں اضافہ اس وقت ہوا جب فرقہ وارانہ فسادات کے باعث بڑے پیمانے پر قتلِ عام کے خدشات سامنے آئے۔

وسطی جمہوریہ افریقہ میں مارچ میں سابق صدر فرانکوئس کے باغیوں کے ہاتھوں معزول کیے جانے کے بعد سے ملک کشیدگی کا شکار ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سابق باغیوں نے دارالحکومت بنگوئی میں عیسائیوں کی ہلاکت کے بدلے میں کم سے کم 1,000 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

عالمی تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ وسطی جمہوریہ افریقہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اقوامِ متحدہ کے اندارزوں سے دگنی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب عیسائی ملیشیا بنگوئی کے کچھ علاقوں میں گئی اور ایک اندازے کے مطابق ملیشیا نے 60 مسلمانوں کو ہلاک کر دیا۔

عالمی تنظیم کے مطابق بنگوئی میں فرانسیسی اور افریقی یونین کی موجودگی کے باوجود روزانہ عام شہریوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے افریقی امور کے ماہر کرسچن موکوسا کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے اکھٹی کی جانے والی معلومات کے بعد اب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وسطی جمہوریہ افریقہ میں تمام جماعتوں کی جانب سے انسانیت کے خلاف جرائم جاری ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے منصف پیٹربوکارٹ کے مطابق وسطی جمہوریہ افریقہ میں حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں