’افسوس‘ کافی نہیں امریکہ ’معافی‘ مانگے: بھارت

Image caption امریکہ نے ’افسوس‘ کا اظہار کر کے خانہ پری کی ہے: وزیر پارلیمانی امور

بھارت نے خاتون سفارتکار دیویانی کھوبراگڑے سے امریکہ میں’ناروا سلوک‘ پر امریکہ کی طرف سے افسوس کے اظہار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اس معاملے پر اپنی غلطی تسلیم کر کے معافی نہیں مانگے گا دونوں ملکوں کے مابین معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔

بھارت کے پارلیمانی امور کے وزیر کمال ناتھ نے جمعرات کے روز دہلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی غلطی تسلیم کر کے معافی نہیں مانگے گا دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بدھ کے روز نیشنل سکیورٹی کے مشیر شیوشنکر مینن سے فون پر بات چیت کی تھی اور بھارتی سفارت کار کے ساتھ سلوک پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

بھارتی سفارت کار دیویانی کھوبراگڑے کو پچھلے جمعے کو مینہیٹن کی عدالت میں پیش کیاگیا اور دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر کے مچلکے پر رہا کر دیا گیا تھا۔ دیویانی کھوبراگڑے نے اپنی ملازمہ سنگیتا رچرڈ پر بلیک میل کا الزام لگایا ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر کمال ناتھ نے کہا: ’ ہم بہت ناراض ہیں۔ افسوس کا اظہار صرف خانہ پری ہے اور ہمیں یہ قابل قبول نہیں۔ جس طرح انھوں نے اس معاملے کو نمٹایا ہے ہم اس سے قطعاً خوش نہیں ہے۔۔۔ انھیں معافی مانگنی پڑے گی۔‘

Image caption امریکہ میں بھارتی سفارت کار دیویانی پر گھریلو ملازم کے ساتھ ناروا سلوک اور جعل سازی کے الزامات ہیں

پارلیمانی امور کے وزیر نے مزید کہا:’انھیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ان سے غلطی سرزد ہوئی ہے اور ہم اسی صورت ہی مطمئن ہو پائیں گے۔‘

اس سے قبل بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا تھا کہ بھارت یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس واقعے سے بھارت اور امریکہ مابین قابل قدر تعلقات خراب نہ ہوں۔

اس سے قبل امریکی شہر نیویارک میں وفاقی استغاثہ کے دفتر نے بھارت کی سفارت کار دیویانی کھوبراگڑے سے’ناروا سلوک‘ کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔

بس امریکہ معافی مانگے: بھارت کا مطالبہ

بدھ کو اس معاملے کی سرکاری وکیل پریت بھرارا نے سخت الفاظ میں امریکی حکام کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’اس معاملے کی رپورٹنگ ٹھیک طریقے سے نہیں کی جا رہی۔‘

انھوں نے کہا کہ بھارتی سفارتکار پر گھریلو ملازم کا استحصال کرنے، دیر تک کام کروا کر کم اجرت دینے اور گھریلوملازم کو امریکی ویزا دلانے کے لیے جھوٹے ثبوت فراہم کرنے کے الزام لگے ہیں۔

واضح رہے کہ دیویانی کو گرفتار کرتے وقت ہتھکڑی پہنائی گئی تھی اور ان کی برہنہ تلاشی بھی لی گئی تھی لیکن اگر وہ ان الزمات کی مرتکب پائي جاتی ہیں تو انھیں 15 سال ‎ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

Image caption بھارت میں دیویانی کی گرفتاری پر سخت غصے کا اظہار کیا گیا ہے

پریت بھرارا نے کہا کہ انھیں حیرت ہے کہ بھارت میں ایک ایسے فرد کے بارے میں اس قدر غصہ کیوں ہے جس کے خلاف تحقیقات جاری ہیں جبکہ جو بھی تھوڑا بہت غصہ ہونا چاہیے وہ اس ملازم کے ساتھ ہونے والے سلوک پر ہونا چاہیے۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ ’دیوياني کو ان بچوں کے سامنے گرفتار نہیں کیا گیا جیسا کہ میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے۔۔۔ انھیں محکمہ خارجہ کے ایجنٹوں نے گرفتار کیا جو ان معاملوں سے بہتر طریقے سے نمٹنے کے قابل ہیں۔‘

بھارتی حکومت نے دیویانی کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کا الزام لگاتے ہوئے اسے ایک قابل مذمت واقعہ قرار دیا ہے اور ایوان بالا میں امریکہ سے معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پریت بھرارا نے کہا کہ ’ناروا سلوک کی بات کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گرفتار کرنے والے حکام نے ان کا فون تک ضبط نہیں کیا جیسا کہ وہ عام طور پر کرتے ہیں۔‘

’اس کے برعکس انہوں نے دیوانی کو نجی کال کی اجازت دی بلکہ ضرورت پڑنے پر رابطہ کرنے کی سہولت بھی فراہم کرائی۔ یہاں تک کہ بچوں کی دیکھ بھال کرنے میں بھی دیویانی کی مدد کی گئی۔‘

انھوں نے بتایا کہ باہر بہت زیادہ سردی ہونے کی وجہ سے ایجنٹوں نے اپنی کار سے انھیں فون کالز کرنے دیں۔ یہاں تک کہ ان کو کافی بھی پلائی گئی اور انھیں کھانا کھانے کو کہا گیا۔

بدھ کے روز امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن سے بات چیت میں نیویارک میں بھارتی سفارت کار سے گرفتاری کے بعد ہونے والے سلوک پر ’افسوس‘ کا اظہار کیا تھا۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ امریکہ میں جو بھی رہے وہ قانون پر عمل کرے۔

امريكی محکمۂ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے جان کیری امریکہ کے سفارت کاروں کی حفاظت کے لیے بھی ذمہ دار ہیں اور اس لیے وہ ذاتی طور پر اس معاملے پر بات چیت کرنا چاہتے تھے۔

Image caption اس کے خلاف نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ بھی کیا گیا

ترجمان میری ہارف کے مطابق: ’وزیر خارجہ کیری امریکی قانون نافذ کرنے اور متاثرین کی حفاظت کرنے کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور یہاں رہنے والے تمام اہل کاروں سے امید کرتے ہیں کہ وہ یہاں کے قانون پر عمل کریں۔ اسی طرح ان کے لیے یہ بھی اہمیت رکھتا ہے کہ غیر ملکی سفارت کاروں کو مکمل عزت اور وقار دیا جانا چاہیے، جیسا کہ وہ بیرونِ ملک امریکی سفارت کاروں کو بھی دیے جانے کی امید کرتے ہیں‘۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان نے واضح کیا کہ جو الزام بھارتی سفارت دیویانی کھوبراگڑے پر لگائے گئے ہیں ان کے بارے میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ معاملہ امریکی محکمۂ انصاف کے تحت آتا ہے۔

ترجمان کے مطابق نیویارک میں بھارتی قونصل خانے نے دیویانی کھوبراگڑے کے اقوام متحدہ مشن میں تبادلے کے بارے میں امریکی حکومت کو آگاہ نہیں کیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق بھارتی سفارت کار دیویانی کھوبراگڑے کو مکمل استثنیٰ حاصل نہیں تھا اور جنیوا کنونشن کے تحت انھیں صرف اپنے کام سے متعلق جرم میں گرفتاری سے استثنیٰ حاصل تھا۔

اسی بارے میں