بدعنوانی کی کارروائی ’گندہ آپریشن‘ ہے: اردوگان

Image caption گرفتار ہونے والوں میں استبول کے فتح ڈسٹرکٹ کے مئیر مصطفیٰ دمیر بھی شامل ہیں

ترکی کے وزیرِاعظم طیب اردوگان نے اپنی حکومت کے خلاف بد عنوانی کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’گندہ آپریشن‘ قراد دیا ہے۔

ترکی میں منگل کی صبح بڑے پیمانے پر رشوت لینے کی کارروائی کے سلسلے میں چھاپے مارے گئے جن میں 52 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں کابینہ کے وزرا کے تین بیٹے بھی شامل ہیں۔

ترکی کے وزیرِاعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ استنبول اور انقرہ میں ان چھاپوں کی نگرانی کرنے والے پولیس کے پانچ سربراہوں کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی سازش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ترکی کے روزنامہ حریت کے مطابق جن پانچ پولیس کمشنروں کو برطرف کیا گیا ہے ان میں مالیاتی اور منظم جرائم کے سربراہ بھی شامل تھے۔

اخبار کے مطابق برطرف کیے جانے والے سربراہوں میں سمگلنگ یونٹ، انسدادِ دہشت گردی کی برانچ اور پبلک سیفٹی برانچ بھی شامل ہے۔

ادھر ترکی پولیس نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے کچھ سٹاف کو بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد دوسرے عہدوں پر تعینات کر دیا ہے۔

دوسری جانب ترکی کے نائب وزیرِاعظم بلند ارنج نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمیشہ عدالت کے فیصلے کو تسلیم کیا ہے اور ہم اس کا راستہ روکنے کی کسی بھی کوشش میں مصروف نہیں ہیں۔

ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینالڈ کے مطابق مبصرین کو یقین ہے کہ گرفتاریاں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی فائرنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ ترکی کی سیاست اور طیب اردوگان کی جماعت اے کے پارٹی میں نئی ڈرامائی تبدیلی آ رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق ملک میں ہونے والا یہ جھگڑا ایک پر اثر مسلمان سکالر فتح اللہ گولن کے حامیوں کو ملوث کیے جانے کے بعد شروع ہوا ہے۔

فتح اللہ گولن امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور انھوں نے ترکی کی حکمران جماعت اے کے پارٹی کی حمایت کی تھی جس کے بعد وہ سنہ 2002 کے بعد تین عام انتخابات جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق فتح اللہ گولن کی حزمت موومنٹ کے ارکان کا پولیس، عدلیہ اور حکمران جماعت اے کے پارٹی میں خاصا اثر و رسوخ ہے۔

ترکی میں حالیہ مہینوں کے دوران حکومتی اتحاد کا شیرازہ اس وقت بکھرنے لگا تھا جب حکومت نے نومبر میں پرائیویٹ سکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا، ان میں حزمت کے سکول بھی شامل تھے۔

رجب طیب اردوگان کی حکومت سنہ 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلامی نظریات سے تقویت حاصل کرتی ہیں لیکن اردوگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔

اسی بارے میں