کاسترو امریکہ سے’مہذب رشتے‘ کے حامی

Image caption 82 سالہ راؤل کاسترونے سنہ 2006 میں اپنے بھائی فیڈل کاسترو سے اس وقت حکومت حاصل کی تھی جب وہ سخت بیمار ہوئے

کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے امریکہ کے ساتھ ’مہذب رشتے‘ قائم کرنے کی بات کہی ہے تاہم انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے اختلافات کا احترام کرنا چاہیے۔

صدر کاسترو نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ کیوبا میں کمیونسٹ نظریہ کی حامل حکومت میں تبدیلی کا مطالبہ چھوڑ دے اس سے دونوں ممالک کے رشتے میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔

راؤل کاسترو کا یہ بیان رواں مہینے جنوبی افریقی رہنما نیلسن منڈیلا کی یاد میں دعائیہ تقریب میں امریکی صدر براک اوباما سے مصافحے کے بعد آيا ہے۔

کیوبن عوام سے خطاب کے دوران صدر کاسترو نے کہا کہ کیوبا اور امریکہ کے حکام کے درمیان گذشتہ سال عملی معاملات مثلا امیگریشن اور ڈاک کے نظام کی بحالی پر کئي بار ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مہذب رشتے قائم کیے جا سکتے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر ہم واقعی دو طرفہ تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کے اختلافات کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا اور اس کے ساتھ ہی خود کو پرامن ڈھنگ سے رہنے کا عادی بنانا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں تو پھر رشتہ نہیں۔ ہم گذشتہ 55 سال کی طرح مزید 55 سال رہ سکتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ کیوبا میں انقلاب کے بعد سنہ 1961 سے امریکہ نے اس ملک سے رشتہ توڑ رکھا ہے اور اس پر اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

دارالحکومت ہوانا میں پارلیمان کے اختتامیہ اجلاس سے خطاب کرتے ہیں راؤل کاسترو نے کہا: ’ہم امریکہ سے یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنے سیاسی اور سماجی نظام کو تبدیل کر دے اور نہ ہی ہم اپنے یہاں ایسی کسی چیز کے لیے تیار ہوں گے۔‘

Image caption نیلسن منڈیلا کی دعایہ تقریب میں راؤل کاسترو نے امریکی صدر براک اوبامہ سے مصافحہ کیا

ہوانا میں بی بی سی کی نمائندہ سارہ رینزفورڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور کیوبا کے درمیان حالیہ برسوں میں رشتے میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں تاہم مفاہمت میں کچھ رخنے ابھی بھی موجود ہیں۔

یاد رہے کہ 82 سالہ راؤل کاسترونے سنہ 2006 میں اپنے بھائی فیڈل کاسترو سے اس وقت حکومت حاصل کی تھی جب وہ سخت بیمار ہوئے اور پھر کبھی صحت یاب ہو کر نہ لوٹ سکے۔ دو سال بعد وہ مستعفی ہو گئے اور تمام اختیارات اپنے بھائی راؤل کو مستقل طور پر منتقل کر دیے۔

اس کے بعد سے راؤل کاسترو نے ملک میں اقتصادی اصلاحات کے پروگرام چلائے جس سے امریکہ کے ساتھ رشتوں میں بہتری کی کوشش میں اضافہ ہوا تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ تبدیلی کی یہ رفتار انتہائی سست ہے۔

راؤل کاسترو کے ذریعے لائی جانے والی جدید ترین اصلاحات کے تحت اب وہاں کوئی بھی شخص نئی یا پرانی گاڑیاں نجی طور پر خرید سکتا ہے۔

اسی بارے میں