سعودی عرب:’حکومت کے ناقدین کو مشکلات کا سامنا‘

Image caption ہزاروں سعودی شہریوں نے ملک میں مختلف حقوق کے لیے انٹرنیٹ پر مہموں میں شرکت کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں حکام سماجی اور سیاسی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تنظیم کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے ناقدین پر سفری پابندیاں لگائی گئی ہیں، ان کی ملازمتیں ختم کی گئیں، انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے اورانہیں بےجا حراست میں رکھا گیا ہے۔

تاہم رپورٹ کا کہنا ہے کہ بہت سے کارکنان ان مشکلات کے باوجود اپنے خیالات کا اظہار کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں اور سماجی روابط کی ویب سائٹوں کے ذریعے اپنے نیٹ ورک بنا رہے ہیں۔

اتوار کو بھی سعودی عرب میں ایک کارکن کو چار سال قید اور 300 کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ سعودی سول اینڈ پولیٹکل رائٹس ایسوسی ایشن کے رکن عمر السعید نے آئینی بادشاہت کا مطالبہ کیا تھا۔

سعودی سول اینڈ پولیٹکل رائٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ عمر السعید کو جس خفیہ سماعت میں سزا سنائی گئی اس میں انہیں صحیح قانونی نمائندگی نہیں فراہم کی گئی۔

سعودی حکام نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں گیارہ معروف کارکنان کے ساتھ ہونے والے واقعات پر غور کیا گیا ہے۔

ان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ثمر بداوی بھی شامل ہیں جنہوں نے خواتین کے لیے مرد محرم سے متعلق قوانین کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ انہیں حراست میں رکھا گیا تھا تاہم اپریل 2011 میں ٹوئٹر پر ان کی رہائی کی ایک مقبول مہم کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے سعودی سول اینڈ پولیٹکل رائٹس ایسوسی ایشن کی تشکیل کی اجازت نہیں دی تھی اور بعد میں اس کے بانی افراد کو ’غیر قانونی تنظیم‘ بنانے کے جرم میں طویل قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

جدہ میں مقیم ایک وکیل ولید ابو الخیر اور مشرقی صوبے کے ایک کارکن فدہیل المناصف اس وقت ایک مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں جس میں ان پر الزامات میں ’عدلیہ کی بے عزتی کرنا‘، ’بادشاہت کو بدنام کرنا‘ اور ’ریاست کے خلاف عوام کو اکسانا‘ شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی وزارتِ داخلہ اکثر ایسے افراد کو بیرونِ ملک سفر کرنے سے روک دیتی ہے اور اور اس سلسلے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی جاتی۔

یاد رہے کہ ہزاروں سعودی شہریوں نے انٹرنیٹ پر ایسی مہموں میں شرکت کی ہے۔ ان کی ایک مثال ’ویمن 2 ڈرائیو‘ ہے جو کہ سعودی خواتین کو پابندی کے باوجود گاڑی چلانے کے لیے کہتے ہیں۔

اسی بارے میں