پُسی رائٹ:سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل

Image caption دونوں خواتین کو مذہب کے خلاف نفرت کے اظہار کے لیے دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی

روسی میوزک بینڈ پُسی رائٹ کی رکن نادیزدا تولوکونیکووا نے غیر ملکی ممالک سے روس میں آئندہ برس فروری میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ان کا یہ بیان جیل سے رہائی کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔ ان سے قبل اس بینڈ کی ایک اور مقید رکن ماریا الیوخینا کو بھی قید کی مدت کے خاتمے سے وقت سے پہلے ایک معافی نامے کے تحت رہا کردیا گیا ہے۔

نادیزدا تولوکونیکووا نے معافی نامے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی رہائی محض ایک دکھاوا تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ روس کے قید خانے سسٹم میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور وہ حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

اس سے قبل ماریا نے بھی ایک روسی ٹی وی چینل کو بتایا تھا کہ معافی نامہ محض ایک دکھاوا تھا اس سے بہتر تو تھا کہ وہ قید میں ہوتیں۔

خیال رہے کہ ماریا اور تولوکونیکووا کو ماسکو کی ایک عدالت نے اگست میں چرچ میں حکومت کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا گیت گانے کے الزام میں دو برس قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ خواتین ہلڑ بازی کی مرتکب ہوئیں جس کی بنیاد مذہب سے نفرت تھی۔ عدالت کی طرف سے دونوں خواتین کو دو دو سال کی قید سزا دیے جانے کے فیصلے کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایاگیا تھا۔

تولوکونیکووا کوا اپنی رہائی کے فوراً بعد کہا کہ غیر ملکی ممالک کو روس میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے۔

انھوں نے کہا ’جو کچھ یہاں ہو رہا ہے وہ سب دکھاوا ہے، حکومت اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے دکھاوے کے طور پر لوگوں کو رہا کر رہی ہے۔‘

تولوکونیکووا نے کہا کہ وہ پوری ایمانداری سے مغربی ممالک سے استدعا کرتی ہیں کہ وہ روس کا بائیکاٹ کر دیں۔

ان خواتین کی سزا مارچ سنہ 2014 میں ختم ہو رہی تھی لیکن روس کی پارلیمان کی طرف سے معافی کے قانون پر دستخط کے بعد رہا کر دیا گیا۔

اس قانون کے تحت تقریباً 20 ہزار قیدیوں کو جن میں بچے، ضعیف، سابق فوجی، حاملہ خواتین اور مائیں شامل ہیں، رہا کیا جائے گا۔

اس معافی نامے کو بحیرۂ اسود کے سیاحتی مقام سوچی میں ہونے والے سرمائی اولمپیکس کو تنازعات سے بچانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

گذشتہ جمعے کو تیل کا کاروبار کرنے والی بڑی شخصیت میخایل خودوسکی کو بھی ٹیکس فراڈ کے الزامات کے تحت دس سال جیل میں گزارنے کے بعد رہا کیا گیا۔ وہ ہمیشہ اصرار کرتے تھے کہ ان کے خلاف کیسز سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے تھے۔

گرین پیس شپ پر گرفتار کیے جانے والے 30 افراد کے خلاف الزامات کو بھی اس ہفتے ختم کرنے کا امکان ہے۔ ان افراد میں زیادہ تر غیر ملکی کارکن شامل ہیں۔

اسی بارے میں