دبئی: شرارت آمیز ویڈیو پر آٹھ افراد کو سزا

Image caption شیزانے قاسم بھی ان چھ غیر ملکیوں میں سے ایک ہیں جنہیں سزا کا حقدار قرار دیا گیا ہے

متحدہ عرب امارت کی ایک عدالت نے چھ غیر ملکیوں سمیت آٹھ افراد کو دبئی کے نوجوانوں کے بارے میں ایک شرارت آمیز ویڈیو بنانے کی پاداش میں ایک سال تک قید کی سزا سنائی ہے۔

’ستوا کامبیٹ سکول‘ نامی انیس منٹ کی ویڈیو اکتوبر دو ہزار بارہ میں یوٹیوب پر شائع کی گئی تھی۔

ریاستی اخبار ’دی نیشنل‘ کے مطابق ریاست کی ایک سکیورٹی عدالت نے ان افراد کو عرب امارات کے معاشرے کی غلط تصویر کشی کرنے اور ملک کو بدنام کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔

امریکی شہری شیزانے قاسم کے خاندان نے تصدیق کی ہے کہ وہ بھی ان چھ غیر ملکی افراد میں شامل ہیں جنہیں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

متحدہ عرب امارت نے سنہ 2012 میں سائبر جرائم سے متعلق ایک قانون بنایا تھا اور یہ پہلے غیر ملکی ہیں جو اس قانون کی زد میں آئے ہیں۔

سائبر جرائم سے متعلق اس قانون کے تحت ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے جو اعلیٰ حکام پر تنقید، ملک میں سیاسی اصلاحات پر بحث اور مظاہروں کے انعقاد کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے۔

اخبار ’دی نیشنل‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک برس کی سزا پانے والے غیرملکیوں میں ایک امریکی شہری کے نام کے ابتدائی حروف ایس سی‘ بتائےگئے ہیں جبکہ دو بھارتی جن کے ناموں کے ابتدائی حروف آر اور اے بتائے گئے ہیں اور انھیں 10 ہزار درہم جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عرب امارات کے شہری دو بھائیوں کو آٹھ آٹھ ماہ قید سنائی گئی ہے اور پانچ ہزار درہم جرمانہ کیاگیا ہے۔ جبکہ انہی کہ تیسرے بھائی کو مقدمے سے بری کر دیاگیا ہے۔

کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، ایک برطانوی خاتون اور ایک اور امریکی مرد کو بھی ان کی غیر موجودگی میں ایک ایک برس قید اور 10 ہزار درہم جرمانہ کیاگیا ہے۔

اس ویڈیو کے آغاز میں یہ تحریر آتی ہے کہ ’اس میں موجود واقعات تصوراتی ہیں اور اس سے ستوا کے لوگوں اور عرب امارات کے لوگوں کو نشانہ بنانا مقصود نہیں ہے۔‘

اس ویڈیو میں شرارت کے انداز میں بتایا گیا ہے کہ دبئی کے ستوا ضلع میں طلبا کو جوتوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سکھایا جاتا ہے اور بوقتِ ضرورت سوشل میڈیا سے امداد کی تلاش کی جاتی ہے۔

قاسم کے خاندان کا کہنا ہے کہ یہ فلم دبئی کے ان نوجوانوں پر ہلکا پھلکا مذاق ہے جو ہوتے تو حلیم طبع ہیں لیکن خود کو غنڈے کی طرح پیش کرتے ہیں۔

برطانیہ میں قائم عرب امارارت کے انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ ملزمان کو وکلا تک مناسب رسائی نہیں دی گئی اور ایسے کاغذات پر دستخط کرواے گئے جن کے بارے میں وہ نہیں جانتے تھے کہ ان میں کیا ہے۔