امریکہ کی طرف سے عراق کو میزائلوں کی فراہمی

Image caption خیال کیا جاتا ہے کہ القاعدہ کے شدت پسند شام اور عراق کے درمیان سرحد کو پار کرکے صوبہ انبار میں دوبارہ منظم ہو گئے ہیں

امریکہ نے عراق کوالقاعدہ سے لڑنے کے لیے درجنوں میزائل فراہم کر دیے ہیں۔

امریکی اور عراقی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے گذشتہ ہفتے عراق کو فضا سے زمین پر وار کرنے والے 75 ہیل فائر میزائل دیے ہیں۔

عراق کو آئندہ سال امریکہ کی طرف سے جاسوسی کرنے والے بغیر پائلٹ والے سکین ایگلز ڈرون ملنے کی توقع بھی ہے۔

عراقی فوج نے حال ہی میں جنگ زدہ شام کی سرحد پر واقع صوبہ انبار میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساقی نے جمعرات کو ان میزائل کی فراہمی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عراق کو جلد ہی ڈرونز بھی فراہم کر دیے جائیں گے۔

انھوں نے عراق اور امریکہ کے درمیان سنہ 2008 میں ہونے والے معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سٹریٹیجک فریم ورک معاہدے کے تحت عراق کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے پرعزم ہے۔

ترجمان نے کہا کہ’عراق کو ہیل فائر میزائل کی حالیہ فراہمی اور انھیں سکین ایگلز ڈرون دینا بیرونی افواج کو اسلحہ فروخت کرنے کے معیاری کیسز ہیں جس کا مقصد شدت پسندوں کے خلاف عراق کی طاقت اور صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق عراقی ہوائی جہاز ان میزائلوں کو صوبہ انبار میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ القاعدہ کے شدت پسند شام اور عراق کی درمیان سرحد کے قریب صوبہ انبار میں دوبارہ منظم ہوگئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس سال عراق میں پرتشدد واقعات میں 8 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں