’حلب میں بیرل بم گرانے سے 517 افراد ہلاک ہوئے‘

Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں سنہ 2011 میں شروع ہونے والے تنازعے میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ 15 دسمبر سے اب تک ملک کے شمالی صوبے حلب میں طیارے کے ذریعے دھماکہ خیز مواد گرانے کے نتیجے میں 517 افراد ہلاک ہوئے۔

شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 151 بچے اور 46 خواتین شامل ہیں۔

خیال رہے کہ شام کا شمالی شہر حلب صدر بشار الاسد کی افواج اور باغیوں کے درمیان لڑائی کا مرکز رہا ہے۔

دوسری جانب ناروے کا ایک جہاز شام سے کیمیائی ہتھیار لے کر جا رہا ہے تاکہ انھیں تباہ کیا جا سکے

ان ہتھیاروں کو شامی کی بندرگاہ لاذقیہ سے اٹلی لے جایا جائے گا جس کے بعد انھیں امریکی جہاز کے ذریعے بین الاقوامی پانیوں میں لے جا کر تباہ کیا جائے گا۔

ادھر ہتھیاروں کی تلفی کی نگرانی کرنے والے ادارے او پی سی ڈبلیو نے دمشق پر زور دیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی کوششوں کو تیز کرے۔

او پی سی ڈبلیو کے چیف احمد امزجو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے تیار ہے۔

Image caption گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس بات پر متفق ہو گئی تھی کہ شامی ہتھیار تلف کر دیے جائیں

انھوں نے کہا کہ ماسکو میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے بعد اقوامِ متحدہ، روس اور دیگر ممالک اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو کس طرح بحفاظت سامان بردار جہازوں کے لیے وہاں سے منتقل کیا جائے گا۔

یہ مشن شامی ہتھیاروں کی تلفی کے بارے میں امریکہ اور روس کے معاہدے کے بعد منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں قائم کیا گیا ہے۔

خیال ہے کہ شام کے پاس تقریباً ایک ہزار ٹن زہریلا کیمیائی مواد ہے اور طے شدہ منصوبے کے تحت شامی کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو آئندہ سال کے وسط تک تلف کیا جانا ہے۔

گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس بات پر متفق ہو گئی تھی کہ شامی ہتھیار تلف کر دیے جائیں۔

سلامتی کونسل میں یہ قرارداد امریکہ اور روس کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں پیش کی گئی تھی۔ اس معاہدے سے قبل روس نے شامی حکام کو کیمیائی ہتھیار تلف کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

شام میں جاری تنازعے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ رواں برس اگست میں اس وقت سامنے آیا تھا جب شامی دارالحکومت دمشق کی نواحی بستی غوطہ میں کیمیائی حملے کے بعد امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس حملے میں 1400 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور اقوام متحدہ نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا موقف ہے کہ اس حملے کی ذمہ دار شامی حکومت تھی جبکہ روس اور شام دونوں کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال حکومت نے نہیں بلکہ باغیوں نے کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں سنہ 2011 میں شروع ہونے والے تنازعے میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں