مصر میں الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک نشانے پر کیوں؟

Image caption قاہرہ میں ٹی وی نیٹ ورک الجزیرہ کی ٹیم کے تین ارکان بشمول دو صحافیوں کو گرفتار کیا گیا

جولائی 2013 میں سابق صدر مرسی کی معزولی کے بعد مصر میں صحافیوں کے لیے ماحول قدرے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

سکیورٹی کی صوت حال بگڑ رہی ہے اور جو کوئی سرکاری موقف کے خلاف بات کرتا ہے اسے کم از کم مشکوک تو سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ مصری حکومت نے اس کا اعلان نہیں کیا ہے مگر ان کی پالیسی ایسی معلوم ہوتی ہے کہ میڈیا کے لوگ یا تو ان کے ساتھ ہوں یا پھر ان کے مخالف جس صورت میں آپ کو اخوان المسلمین کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ اخوان المسلمین کو گذشتہ ہفتے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔

مصر میں سیاسی طاقت کی لڑائی میں میڈیا کا اہم کردار ہے اور اخوان المسلمین کا حامی سمجھے جانے والے میڈیا کے ہرادارے کو بند کیا جا چکا ہے۔

ان میں سے بیشتر کو تو صدر مرسی کی معزولی کے چند گھنٹوں کے اندر ہی نشریات سے روک دیا گیا تھا۔

صرف الجزیرہ ہی ہے جو عربی زبان میں اخوان السملمین کا موقف عام لوگوں تک پہنچا رہا ہے۔

الجزیرہ نے 24 گھنٹے کی نشریات میں صدر مرسی کے حامیوں کا احتجاج دکھایا ہے، ربا قتلِ عام کے واقعے کے عینی شاہدین کی کہانیاں سنائی ہیں جس میں سینکڑوں اخوان المسلمین کے کارکنان ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ چینل نے حکومتی کارروائی سے بچ جانے والے چند اسلام پسند رہنماؤں کے انٹرویو بھی دکھائے ہیں۔

Image caption مصر میں سیاسی طاقت کی لڑائی میں میڈیا کا اہم کردار ہے

اخوان المسلمین کی حمایت کی وجہ سے الجزیرہ اسلام پسندوں کا آخری سہارا اور مصری حکومت کے لیے ایک کانٹا بنا ہوا ہے۔

الجزیرہ کے بغیر مصری حکومت تمام ٹی وی نیوز چینلز پر حاوی ہوتا اور اسی لیے ان کی جنجھلاہٹ سمجھ آتی ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مصری حکام اس چینل کو بند کرنا چاہتے ہیں تاہم وہ اس لیے ایسا نہیں کر رہے کیونکہ ماضی میں ایسا کرنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔

حسنی مبارک کے دور میں وزارتِ اطلاعات نے بہت سے شاطر حربوں سے اس چینل کو خاموش کرنے کی کوشش کی جن میں مصری حکومت کے سٹوڈیو استعمال کرنے سے روکنا، چینل کی سیٹلائٹ فیڈ معطل کرنا اور اس کے نمائندوں کو بے جا حراست میں رکھنا شامل ہے۔

اس سب کے باوجود سنہ 2011 میں بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ الجزیرہ نے صدر حسنی مبارک کی برطرفی میں اہم کردار ادا کیا۔

مصر میں سنہ 2011 کی تحریک کے بعد سے حکومت اور الجزیرہ چینل کے درمیان کشیدگی جاری رہی ہے۔

سنہ 2011 میں الجزیرہ سے منسلک ایک صحافی کو قاہرہ کے ہوائی اڈے سے ایک جہاز سے گرفتار کیا گیا اور نیٹ ورک کے دفاتر پر ایک ہی ماہ میں دو مرتبہ حکومتی اہلکاروں نے دھاوا بولا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ چینل اسرائیل کے خلاف جذبات ابھار رہا ہے جس کے نتیجے میں قاہرہ میں اسرائیلی سفارت خانے پر حملہ ہوا۔

اس سب کا الجزیرہ کی نشریات پر کم ہی اثر پڑا

الجزیرہ کے لیے ترپ کا پتہ اس کی حامی قطری حکومت کی جانب سے بیش بہا سیاسی اور مالی امداد ہے۔

اگرچہ قطری شاہی خاندان اخوان المسلمین کے مقابلے میں قدرے زیادہ عمل پسند اور کم نظریاتی ہے تاہم دونوں کے درمیان نظریات میں بہت اتفاق اور ایک مضبوط رشتہ ہے۔

دونوں کو قدرے اسلام پسند کہا جا سکتا ہے اور دونوں کا ماننا ہے کہ وہ بہترین مسلمان عقائد کی پیروی کرتے ہیں۔

الجزیرہ کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک مذہبی رہنما اور الجزیرہ کے مقبول ترین شو کے میزبان شیخ یوسف القراداوی کئی سالوں سے اخوان المسلمین کے رکن ہیں۔

Image caption قطر کے سابق امیر نے مصر میں اثرو رسوخ بڑھانے کی کوشش کی

قطر کے سابق امیر شیخ حماد بن خلیفہ الثانی نے خطے میں شعوری بحث خاص کر پولیٹکل اسلام کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔

شیخ حماد بن خلیفہ الثانی رواں سال اپنے بیٹے کے حق میں اقدار سے الگ ہو گئے تھے۔

جیسے مصر میں اخوان المسلمین نے طاقت پکڑی اور اقتدار میں آئی تو انھیں موقع ملا کہ وہ اپنے ہم خیال اسلام پسندوں پر اپنے عقائد کے مطابق اثرو رسوخ میں اضافہ کریں۔ اگرچہ صدر مرسی کے اقدار میں ہوتے ہوئے بھی ان کی یہ حمایت غیر متنازع نہیں تھی کیونکہ اس سوال پر اکثر اوقات کشیدگی میں اضافہ ہو جاتا تھا کہ عرب میں اسلامی تحریک کا صحیح رہنما کون ہو سکتا ہے؟۔

مصر میں صدر مرسی کو اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد مصر میں پولیٹکل اسلام پر اپنے اثرو رسوخ بڑھانے کی کوششوں کو ناگہانی طور پر محدود کر دیا گیا لیکن حالیہ گرفتاریوں کے برعکس عرب دنیا میں تقسیم بڑھ رہی ہے اور اس میں الجزیرہ نیٹ ورک اسلامی پوزیشن پر قائم اور مصری حکومت کے لیے باعث اشتعال رہے گا۔

اسی بارے میں