بیروت میں ایرانی سفارت خانے کا مشتبہ حملہ آور ’گرفتار‘

Image caption ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ماجد الماجد کو کب اور کہاں سے گرفتار کیاگیا تھا

لبنان کے حکام نے کہا ہے کہ بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے القاعدہ کے رہنما ماجد الماجد کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔

ماجد الماجد کو 2012 میں القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم عبد اللہ اعظم بریگیڈ کا سربراہ چنا گیا تھا۔

لبنان کے وزیر دفاع فایز غصن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ماجد الماجد القاعدہ سے منسلک عبداللہ اعظم بریگیڈ کے سعودی عرب کے’امیر‘ ہیں اور وہ اس وقت لبنانی انٹیلی جنس کی حراست میں ہیں۔

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار نے بھی ماجد الماجد کی گرفتاری کی خبر نشر کی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ماجد الماجد کو کب اور کہاں سے گرفتار کیاگیا تھا۔ المنار ٹیلی ویژن کے مطابق القاعدہ کے رہنما کو ’حال‘ ہی میں گرفتار کیا گیا ہے۔

بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر نومبر 2013 میں ہونے والے حملے میں کلچرل اتاشی سمیت 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عبد اللہ اعظم بریگیڈ کے قریبی سمجھے جانے والے ایک مولوی نے خبر دار کیا ہے کہ جب تک لبنانی ملیشیا شامی فوجی کے ہمراہ باغیوں سے لڑتی رہے گی اس وقت تک لبنان میں حملے ہوتے رہیں گے۔

حزب اللہ کے ٹی وی چینل کے مطابق 15 دسمبر کو جنوبی شہر صیدا میں آرمی چیک پوسٹ پر ہونے والے دو حملے دراصل ماجد الماجد کو رہا کرنے کی کوشش تھی۔ چیک پوسٹ پر ہونے والے حملوں میں چار حملہ آور ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں