لیٹویا میں نئے سال کے ساتھ نئی کرنسی

Image caption اس اقدام سے ملک کے روس پر انحصار میں کمی ہو گی

بالٹک ملک لیٹویا نے نئے سال کا آغاز یورو زون میں باقاعدہ شمولیت سے کیا اور یوں لیٹویا اس خصوصی اقتصادی اتحاد کا 18واں ملک بن گیا جہاں یورو بطور کرنسی استعمال ہوتا ہے۔

لیٹویا سابق سویت یونین کی ریاست ہے جو بحیرۂ بالٹک کے کناروں پر واقع ہے۔ حال ہی میں لیٹویا اقتصادی بحران سے نکل کر یورپ کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ریاست بن گیا ہے۔

اس اقدام سے ملک کے روس پر انحصار میں کمی ہو گی۔

یورپی یونین کے کمشنر اولی ریہن نے کہا کہ یورو زون میں شامل ہونا ’اس براعظم کے سیاسی اور معاشی مرکز کی جانب لیٹویا کے واپسی کے سفر کی تکمیل ہے اور یہ ہم سب کے لیے خوشی کا دن ہے۔‘

حکومت اور کاروباری طبقے نے اس قدم کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری ہو گی جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرے گی۔

تاہم کچھ رائے عامہ کے جائزوں سے یہ سامنے آیا کہ 60 فیصد افراد نئی کرنسی کے حق میں نہیں تھے۔

Image caption لیٹویا کے وزیراعظم نے اسے ملک کی معاشی ترقی کے لیے بہت بڑا موقع قرار دیا

لیٹویا کے وزیراعظم والدس ڈومبروسکس نے علامتی طور پر کیش مشین سے دس یورو کا ایک نوٹ نکالتے ہوئے کہا کہ ’یہ لٹویا کی معاشی ترقی کے لیے بہت بڑا موقع ہے۔‘

لیٹویا میں خاصی تعداد میں روسی بستے ہیں، اور اسے دوسری بالٹک ریاستوں کی نسبت روس کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔

روس اب بھی لیٹویا کی بڑی برآمدی منڈی ہے جبکہ اس کے بینکنگ کے نظام میں بڑی تعداد میں بالٹک ریاستوں کے شہریوں کا سرمایہ ہوتا ہے۔