بیروت: کار بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک

Image caption یہ دھماکہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حکام کے مطابق ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ 60 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ کار بم دھماکہ بیروت کے جنوبی مضافات میں ہوا جو شیعہ تنظیم حزب اللہ کا گڑھ ہے۔

حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار کے مطابق اس دھماکے نے ایک عمات کے بیرونی حصے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

بیروت شہر میں حالیہ دنوں میں کئی پر تشدد واقعات ہوئے ہیں جن کا تعلق ہمسایہ ملک شام میں جاری خانہ جنگی سے جوڑا جا رہا ہے۔

گزشتہ جمعے کو سابق وزیر محمد شطح ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔ محمد شطح سنی تھے اور حزب اللہ کے ناقد تھے جن کے ساتھ اس حملے میں چھ افراد ہلاک جبکہ کم از کم پچاس زخمی ہو گئے تھے۔

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے اس حملے کی زمہ داری حزب اللہ پر عائد کی تھی۔

یاد رہے کہ محمد شطح سعد حریری کے مشیر تھے۔

Image caption اس علاقے میں حزب اللہ کا سیاسی دفتر دھماکے کی جگہ کے قریب ہی واقع ہے

المنار ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں جلی اور تباہ ہوئی گاڑیاں ایک عمارت کے سامنے دیکھی جا سکتی ہیں جو اس دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہو چکی ہے۔

دھماکہ جس گلی میں ہوا اس میں دکانیں، ریستوران اور رہائشی عمارتیں ہیں اور المنار ٹی وی کے مطابق یہ دھماکہ حزب اللہ کے قریبی سیاسی دفتر کے قریب ہوا۔

Image caption بیروت میں حالیہ دنوں میں کئی دھماکے ہوئے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں

ایک اکاؤنٹنٹ علی اولیک جو ایک قریبی عمارت میں کام کرتے ہیں نے اے پی کو بتایا کہ ’اچانک تمام علاقہ چمک اٹھا اور ہم نے اس کے بعد بھاگنا شروع کر دیا۔

مسٹر حریری نے اس دھماکے کو ایک ’شیطانی فعل‘ قرار دیا جبکہ نگران وزیر اعظم نجب میقاطی نے کہا کہ ’دہشت گرد لبنان کو فرقہ وارانہ کشیدگی میں گھسینے کا گھناؤنا منصوبہ بنا رہے ہیں۔‘

Image caption لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے اسے ایک ’شیطانی فعل‘ قرار دیا ہے

اس دھماکے کی زمہ داری ابھی تک کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے تاہم اس سے ایک روز قبل سنی جہادی گروہ کے سربراہ ماجد الماجد کو گرفتار کیا گیا تھا جس گروہ پر بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔

ایرانی سفارت خانے پر حملے کے نتیجے میں 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

Image caption بیروت میں واقع ایرانی سفارت خانے پر حملے کے نتیجے میں 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس میں ملوث القاعدہ کے گروہ کے سربراہ کو لبنانی حکام نے گزشتہ روز گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا

ماجد الماجد جو القاعدہ سے منسلک عبداللہ عظام برگیڈ کے سعودی امیر ہیں نے کہا ہے کہ لبنان میں حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک حزب اللہ اور ایرانی قوات شامی حکومتی افواج کے ساتھ لڑنا بند نہیں کر دیں گے۔

حزب اللہ نے شامی صدر بشار الاسد کی مدد کے لیے جنگجو شام میں بھجوائے ہیں جو سنی باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

صدر بشار الاسد علاوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جو شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے۔

اسی بارے میں