شدت پسندوں کو شہر سے نکال باہر کریں: عراقی وزیرِ اعظم

Image caption فلوجہ شہر کئی دنوں سے القاعدہ سے منسلک دہشت گردوں کے قبضے میں ہے

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے فلوجہ کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہر پر قابض القاعدہ کے دہشت گردوں کو شہر سے نکال دیں۔

نوری المالکی نے کہا کہ اگر لوگ ان عناصر کو خود ہی شہر سے نکال دیں تو شہر پر فوج کشی نہیں کی جائے گی۔

عراق کی فوج شہر پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ فلوجہ شہر کئی دنوں سے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مسلح گروہوں کے قبضے میں ہے۔

ہزاروں شہری فضائی حملوں اور بمباری سے بچنے کے لیے شہر سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

عراق کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم نے فلوجہ کے لوگوں اور قبائلیوں سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو اپنے علاقوں سے نکال باہر کریں تاکہ ان علاقوں میں فوجی کارروائی سے بچا جا سکے۔

عراق کے قومی سلامتی کے سابق مشیر موافق الرباعی نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام ملک کو القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں سے بچانا ناممکن ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ممکن ہوا تو یہ مستقبل میں کبھی ہو سکے گا کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں عراقیوں کو مسلح نہیں کیا جا سکتا اور ہر گلی اور محلے کی حفاظت نہیں کی جا سکتی۔

انھوں نے کہا: ’یہ شدت پسند تربیت یافتہ اور انتہائی خطرناک ہیں۔ ان کے مذہبی عقائد انتہا پسندانہ ہیں اور ان کے ذہن کو بدل دیا گیا ہے۔ وہ بہت سفاک اور ظالم ہیں اور افراتفری پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں۔‘

وزیر اعظم کے ایک مشیر سعد المطلبی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان شدت پسندوں نے شام سے اسلحہ اسمگل کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام میں شدت پسندوں کو سعودی عرب سے جو اسلحہ ، بارود اور میزائل فراہم کیے جا رہے ہیں وہ انھوں نے عراق کے شہریوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے فلوجہ اسمگل کر دیے ہیں۔

صوبہ انبار کے شہر رمادی میں بھی لڑائی جاری ہے اور اس شہر کے کچھ حصوں پر شدت پسند قابض ہیں۔ ان شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں ایران اور امریکہ نے عراقی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق فلوجہ شہر علامتی اعتبار سے سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فلوجہ شہر کو 2004 میں امریکی فوج کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔

انبار صوبے میں حالیہ تشدد کے واقعات اس وقت شروع ہوئے جب گذشتہ ماہ سنی فرقے سے تعلق رکھنے والوں رمادی میں ایک احتجاجی کیمپ کے خلاف سرکاری فورسز نے کارروائی کی تھی۔

دریں اثنا بغداد میں اتوار کو دارالحکومت بغداد میں بم دھماکوں میں 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس اور طبی ذرائع کے حوالے سے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے اطلاع دی ہے کہ سب بڑا دھماکہ شیعہ علاقے میں ہوا جہاں نو افراد ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے۔

انبار صوبے میں حالیہ تشدد کی لہر اس سیاسی پس منظر میں اٹھی ہے جہاں سنی عرب شیعہ اکثریت والی حکومت سے شدید نالاں ہیں۔

سنی اقلیتوں کا کہنا ہے کہ حکومت فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کے لیے انھیں نشانہ بنا رہی ہے۔

بی بی سی کے تجزیہ کار احمد ماہر کا کہنا ہے کہ فلوجہ میں شہریوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ عراقی فوج نوری المالکی کی حکومت کے فرقہ وارانہ ایجنڈا پر عمل پیرا ہے۔

لیکن بہت سے عراقیوں کا خیال ہے کہ فلوجہ دہشت گردوں کا گڑھ ہے۔ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد فلوجہ شہر کو القاعدہ کے شدت پسندوں نے اپنا گڑھ بنالیا تھا جہاں بہت سے غیر ملکیوں کے سر قلم کیے گئے۔

حالیہ مہینوں میں سنی شدت پسندوں نے عراق بھر میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور شیعہ گروہ انتقامی کارروائی کر رہے ہیں جس سے اس بات کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں ملک ایک وسیع تر فرقہ وارانہ جنگ کی نذر نہ ہو جائے۔

اسی بارے میں