سپین کی شہزادی پر دھوکہ دہی کا الزام

سپین کے ایک جج نے بادشاہ ہوان کارلوس کی چھوٹی بیٹی کو منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت عدالت میں طلب کیا ہے۔

48 سالہ ایفانتا کرسٹینا اپنے شوہر اناکی اردنگارین کے کاروباری معاملات سے منسلک ہیں اور ان کے خلاف دھوکہ دہی کے الزامات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

شہزادی اب اس مقدمے میں مشتبہ ملزم ہیں اور انہیں نو مارچ کو عدالت میں پیش ہونا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سپین میں بادشاہ کا کوئی قریبی رشتہ دار غلط کام کے الزام میں عدالت میں پیش ہوگا۔

جج نے حکم دیا کہ اناکی اردنگارین کی کاروباری شریک شہزدای پوچھ گچھ کے لیے عدالت میں پیش ہوں۔ وہ ایزون کے نام سے کاروبار میں اپنےشوہر کی شراکت دار ہیں۔

گذشتہ برس شہزدای کے شوہر کی جائیداد اس وقت ضبط کر لی گئی تھی جب ان پر ایک فلاحی ادارے کو دیے گئے لاکھوں یوروز کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ فلاحی ادارہ ڈیوک آف پالما اناکی اردنگارین کے زیر نگرانی تھا۔

ضبط کی جانے والی جائیداد میں ایک بڑا پر تعیش گھر بھی شامل ہے جو بارسلونا کے مضافات میں واقع ہے۔

انفانتا کرسٹتنا بادشاہ کی منجھلی بیٹی ہیں ان کی بڑی بہن انفانتا ایلینا ہیں اور ان کہ چھوٹے بھائی ولی عہد فلیپ ہیں۔

جج نے اینٹی کرپشن کے استغاثہ کی جانب سے ان اعتراضات کے باوجود یہ وارنٹ جاری کیے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شہزادی کے اپنے شوہر کے غلط کاموں سے تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

منگل کو جاری ہونے والے حکم نامے کے بعد شاہی خاندان کا کہنا ہے کہ ’عدالتی حکم کا احترام کیا جائے گا۔‘

شہزادی کے مقدمے میں مشتبہ ملزم قرار دیے جانے کی خبر سے سپین کے 76 ویں بادشاہ کی مقبولیت میں مزید کمی آئی ہے۔ ان کی شہرت کو اس وقت دھچکا لگا تھا جب میں انہوں نے 2012 میں افریقہ میں ہاتھیوں کا پر تعیش شکار کیا تھا۔

اتوار کو شائع ہونے والے ایک رائے عامہ کے جائزے کے مطابق 62 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ بادشاہ عہدے سے الگ ہو جائیں جبکہ نصف سے کچھ زیادہ لوگ ہیں بادشاہت کے حق میں ہیں۔

اسی بارے میں