امریکہ:فیڈرل ریزرو کی پہلی خاتون سربراہ کی منظوری

Image caption ووٹنگ کے دوران کئی ارکان نے بے روزگاری کے مسئلے پر توجہ مرکوز رکھنے پر يیلن کی تعریف کی

امریکی ایوانِ بالا نے پہلی بار ایک خاتون کو ملک کے مرکزی بینک کی صدر کے عہدے پر تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

67 سالہ جینٹ يیلن فیڈرل ریزرو کی 100 سالہ کی تاریخ میں یہ عہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون ہیں۔

وہ بین برنانکی کی جگہ لیں گی جو یکم فروری کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

امریکی سینیٹ کے 56 ارکان نے يیلن کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 26 نے ان کی مخالفت کی۔ خراب موسم کی وجہ سے کئی ممبران پارلیمنٹ ووٹ دینے نہیں پہنچ پائے۔

1987 میں پال واکر کے فیڈرل ریزرو کے سربراہ کا عہدہ چھوڑنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کسی ڈیموکریٹ صدر نے اس عہدے کے لیے کسی کو نامزد کیا ہے۔

صدر براک اوباما نے اس منظوری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی عوام کو ایک ایسا چیمپیئن ملے گا جو اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ اقتصادی اور مالی پالیسی کے تعین کا مقصد امریکی مزدوروں اور ان کے خاندانوں کی زندگی، کام اور معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔‘

نیویارک کے علاقے بروكلن سے تعلق رکھنے والی يیلن سابق صدر بل کلنٹن کی اقتصادی مشاورتی کونسل کی سربراہ اور برکلی میں واقع کیلی فورنیا یونیورسٹی میں معاشیات کی پروفیسر رہ چکی ہیں۔

سینیٹ میں ووٹنگ کے دوران کئی ارکان نے بے روزگاری کے مسئلے پر توجہ مرکوز رکھنے پر يیلن کی تعریف کی۔

ییلن کے پیشرو بین برنانکی آٹھ سال سے اس عہدے پر فائز تھے اور ان کے جانے کے بعد يیلن کے لیے آگے کی راہ آسان نہیں ہوگی۔

اگرچہ زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ وہ بھی برنانکی کے نقش قدم پر چلیں گی لیکن ان کی اصل مشکلات اس وقت شروع ہوں گی جب بینک امریکی معیشت میں جان پھونکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو واپس لینا شروع کرے گا۔

يیلن معیشت کو پٹڑی پر لانے کے لیے فیڈرل ریزرو کی طرف سے دی جانے والی امداد کی حامی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ہر ماہ 75 ارب ڈالر کے بانڈز خریدے جا رہے ہیں۔

اس سے فیڈرل ریزرو طویل مدتی سود کی شرح کو کم رکھنا چاہتا ہے تاکہ لوگ پیسہ بچانے کی بجائے خرچ کریں۔

اس عمل سے فیڈرل ریزرو نے تقریباً 40 کھرب ڈالر جمع کر لیے ہیں۔

يیلن کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ طے کرنا ہے کہ یہ منصوبہ کب ختم کیا جائے۔

فیڈرل ریزرو نے حال ہی میں تسلیم کیا تھا کہ ملک کی معیشت کے بارے میں گذشتہ چند سالوں میں اس کی پیشن گوئی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا اور اسے حوصلہ افزائی پیکج متوقع مدت سے زیادہ وقت تک جاری رکھنا پڑ رہا ہے۔

اسی بارے میں