فلوجہ کے لیے عراقی حکومت کی جنگ

Image caption فلوجہ ہمیشہ سے باغی جنگجوؤں کا گڑھ رہا ہے

عراق کے مستقبل کے بارے میں کی جانے والی پیش گوئیاں انتہائی ہولناک ہیں۔ عراق کے اندر اور باہر یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ملک ایک فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی دہانے پر ہے۔

عراق کا سب سے بڑا صوبہ الانبار کشیدگی کا شکار ہے جہاں بغداد کی شیعہ حکومت نے سنی اکثریتی شہروں فلوجہ اور رمادی میں القاعدہ سے منسلک سنّی جنگجؤوں کو قابو کرنے کے لیے فوج بھیجی ہے۔

شدت پسندوں کو شہر سے نکال باہر کریں: عراقی وزیرِ اعظم

فلوجہ: کچھ حصےاب بھی’اسلامی ریاست‘ کےپاس

امریکہ نے بغداد کو نگرانی کرنے والے ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور ہیل فائر میزائلز کی صورت میں مدد کی پیش کش کی ہے اور کچھ ایسا ہی تعاون ایرانی فوج بھی دینے کو تیار ہے۔

اس صورتحال میں امریکہ اور ایران کی ایک فریق کے لیے منفرد مشترکہ حمایت سامنے آ رہی ہے۔

لیکن بغداد کو اختیار کے حصول کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟

پچھلی بار 2006-2007 امریکہ میں کس طرح کامیاب ہوئے؟

اور سب سے اہم یہ خطے کے لیے کیا معنی رکھتا ہے اگر بغداد ناکام ہو جاتا ہے اور اس صوبے سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے؟

عراقی حکومت کا مسئلہ صرف فوجی نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی بھی ہے۔

فوج کی تعیناتی اور بہتر جاسوسی سے اس مسئلے کا مستقل حل نہیں نکل سکتا۔

الانبار طویل عرصے سے سنی بغاوت کا گڑھ رہا ہے۔ عراق پر امریکہ کے آٹھ سالہ قبضے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کا ایک تہائی نقصان یہیں ہوا۔

2003 میں امریکی حملے کے بعد القاعدہ الانبار صوبے میں ایک چھوٹی ریاست کے قیام کے قریب تھی۔

2004 میں فلوجہ شہر کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ نے ویتنام جنگ کے بعد سب سے خونی لڑائی لڑی۔

لیکن 2006 میں امریکہ، برطانیہ اور عراقی فوج کے اتحاد نے سنی قبائل کو القاعدہ کو اس علاقے سے نکالنے پر راضی کر لیا۔

انہوں نے ایسا کس طرح کیا؟

مالی پیشکش

امریکہ کے جنرل ڈیوڈ پیٹراس سمیت امریکی اور برطانوی جرنیلوں نے ہزاروں فوجی الابنار بھیجنے کا انتظام کیا۔

لیکن یہ صرف ان کے لائحہ عمل کا دکھائی دینے والا حصہ تھا۔

اس کے پیچھے ایک محتاط پس پردہ مہم بھی تھی جس میں اُن کے عراقی ساتھی بھی شامل تھے، جنہیں مالی تعاون دیا گیا تاکہ وہ سنی قبائلی رہنماؤں کو قائل کریں کہ ان کا مستقبل حکومت کا ساتھ دینے میں ہے ناکہ باغیوں کے ساتھ۔

مقامی افراد جنہوں نے پہلے پہل تو امریکہ کے خلاف القاعدہ کی مزاحمت کو خوش آمدید کہا لیکن اب وہ شدت پسندوں کی جانب سے نافذ کیے جانے والے سخت گیر اور خوفناک اصولوں سے خائف تھے۔

بعض جگہوں پر تو سگریٹ پینا بھی قابلِ سزا جرم تھا، اس کی پاداش میں انگلیاں کاٹ دی جاتیں۔ قبائلی سرداروں کا کہنا تھا کہ القاعدہ نے انھیں ٹوکریوں میں کٹے ہوئے سر رکھ کر دیے ہیں، اور کچھ نہیں دیا۔

اس کا نیتجہ یہ ہوا کہ ’سہوا‘ نامی ملیشیا وجود میں آئی۔ اس نے القاعدہ کو وہاں سے بے دخل کیا اور الانبار میں کسی حد تک سکیورٹی فراہم کی۔

لیکن تب سے صورتحال برح طرح پلٹ رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نوری المالکی کی شیعہ اکثریتی حکومت الانبار کےسنیوں سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کر سکی۔

سنیوں کو گلہ ہے کہ انھیں انصاف نہیں ملا، انھیں اہمیت نہیں دی گئی، ان کے ساتھ تفریق کی گئی، حکومت میں مرکزی اختیارات سے دور رکھا گیا، انھیں ہراساں کیا گیا اور گرفتاریوں کے بعد ان سے ظالمانہ برتاؤ کیا گیا۔

مختصر یہ کہ سنی قبائل کو مرکزی دھارے اور حکومت میں لانے کا موقع ضائع کر دیا گیا۔

عراق کے سابق قومی سلامتی کے مشیر موافق الربائی نے حال ہی میں بی بی سی کو بتایا ’القاعدہ واپس آ رہی ہے کیونکہ سنّیوں کو وفاق میں لانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات بکھر چکے ہیں۔‘

اس سارے معاملے میں صرف عراق کی سلامتی، اور استحکام ہی خطرے میں نہیں ہے بلکہ پورا خطہ اس خطرے سے دوچار ہے۔

بغاوت کا گڑھ

Image caption مقامی افراد محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں

شام کی مشترکہ سرحد پر ایس قوتیں ہیں جو تین سال سے وہاں جاری اس خانہ جنگی پر پل رہی ہیں۔ اس میں شمولیت کے لیے جہادی یورپ اور مشرقِ وسطیِ بھر سے آ رہے ہیں۔

یہ سرحدی علاقہ قبائلی علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہاں مسلسل کشیدگی رہتی ہے اور اسلحے اور لوگوں کی دونوں جانب آمد ورفت رہتی ہے۔

چھ برس قبل القاعدہ کو الانبار میں بڑے پیمانے پر شکست ہوئی تھی، تب سے یہ دوبارہ متحد اور مسلح ہو رہے ہیں۔

اگر عراقی حکومت فلوجہ اور رمادی کے شہروں میں امن قائم نہیں کر پاتی تو وہ ایک بڑے رقبے پر اختیار کھو دے گی۔

شمالی کرد علاقے پہلے ہی فرضی خود مختاری کے دعوے دار ہیں اور یہ صورتحال عراق کی تقیسم کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔

لیکن یہ مسئلہ عراق کی سرحدوں سے بہت پرے ہے۔

یہ معاملہ کوئی بھی رخ اختیار کر سکتا ہے۔ بغداد حکومت بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ فلوجہ کوئی آسان ہدف نہیں ہے۔

ایسے میں جب افواج نے شہر کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور کئی حاندان محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں حکومت سنی قبائل کو القاعدہ کو نکالنے کے لیے قائل کر رہی ہے تاکہ مزید خون ریزی سے بچا جا سکے۔

اگر یہ کوشش ناکام ہوتی ہے تو حکومت کے پاس اس کے سو کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ گولہ بارود کے ساتھ شہر کے اندر جائے۔ اس کے نتیجے میں بہنے والے خون کے باعث حکومت مقامی آبادی کی نظروں میں مقام کھو دے گی۔

امریکہ کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد کہ اس کارروائی میں امریکی حمایت میں اس کا کوئی فوجی اہلکار شامل نہیں ہوگا یہ ضمانت نہیں کے یہ جنگ کامیاب بھی ہو گی۔

زیادہ بڑا مسئلہ طویل المدتی اور سیاسی ہے۔ فلوجہ، رمادی اور پورا صوبہ الانبار اسی صورت میں مستحکم ہو سکتا ہے جب بغداد انتظامیہ وہاں اچھی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

اسی بارے میں