جنوبی سوڈان میں بنتیو سے ہزاروں کی نقل مکانی

Image caption اس کشیدگی کی وجہ سے تقریباً دو لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق جنوبی سوڈان کے شہر بنتیو سے ہزاروں رہائشی حکومتی آپریشن کے خوف سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ حکومت کا یہ آپریشن باغی فوجیوں سے علاقے کا کنٹرول واپس لینے کے لیے کیا جانا ہے اور اس خطے میں تیل کے اہم ذخائر موجود ہیں۔

بی بی سی نامہ نگار ایلسٹر لیتہیڈ کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد بنتیو میں اقوام متحدہ کے اڈّے میں پناہ لے رہے ہیں۔

جنوبی سوڈان: باغیوں کا اہم شہر پر حملہ

جنوبی سوڈان: ہزاروں باغیوں کا ’بور شہر کی جانب مارچ‘

دوسری جانب حکومت کے 11 مشتبہ باغیوں کے گرفتار کرنے کے بعد حکومت اور باغی فورسز کے درمیان مذاکرات بظاہر ناکام ہوگئے ہیں۔

اس شورش میں کم از کم 1000 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس کشیدگی کی وجہ سے تقریباً دو لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے اور اس میں دنکا اور نوئر برادری کے درمیان نسل پرستانہ فسادات بھی ہوئے ہیں۔

کئی ممالک کی حکومتوں نے جنوبی سوڈان سے اپنے شہریوں کو نکال لیا ہے اور بہت سے جنوبی سوڈان کے شہری ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔

یہ معاملہ دسمبر 2013 کے وسط میں شروع ہوا جب صدر سلوا کیئر نے اپنے نائب ریئک مچار پر بغاوت کرنے کا الزام لگایا۔

ریئک مچار نے الزامات کی تردید کرتے ہیں اور انہوں نے گیارہ مشتبہ باغیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کے روز علاقائی مذاکراتکارجنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا سے صدر کے ساتھ بات چیت کے بعد روانہ ہوگئے۔

جوبا کے مقامی صحافی مادنگ نگور نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکراتکاروں کی ناکامی میں ایک اہم مسئلہ 11 مشتبہ باغیوں کی رہائی کا مسئلہ ہے۔

صدر کیئر نے ان افراد کو رہا کرنے پر اس صورت میں آمادگی ظاہر کی ہے کہ اگر مذاکرات کے عمل کو جوبا سے منتقل کر کے ایتھوپیا لے جایا جائے۔

Image caption اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ان کے نامہ نگار جب بور سے 25 کلومیٹر دور منکامن قصبے میں پہنچے تو وہاں کے رہائشییوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کر رہی تھی

تاہم ان کا کہنا ہے کہ رات کے وقت انہیں واپس زیرِ حراست آنا ہوگا۔

ریئک مچار کےحامیوں نے فوراً اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومت فوجی یونیٹی ریاست کے دارالحکومت بنتیو سے تقریباً 25 کلومیٹر دور رہ گئے ہیں۔

یونیٹی ریاست میں تیلکے اہم ذخائر موجود ہیں اور جنوبی سوڈان کے لیے یہ ریاست زرِ مبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہے۔

اس کشیدگی کے آغاز سے تیل کی پیداوار میں تقریباً 20 فیصد کمی ہو گئی ہے۔

بنتیو اور جونگلی ریاست کا دارالحکومت بور، دونوں ہی باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

فوج کے ترجمان فلیپ اوگوئر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بور کے گرد لڑائی جاری ہے اور حکومتی فوج اسے واپس لینے کے لیے آپریشن کر رہی ہے۔

اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ان کے نامہ نگار جب بور سے 25 کلومیٹر دور منکامن قصبے میں پہنچے تو وہاں کے رہائشییوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی کر رہی تھی۔

اے ایف پی کا کہنا ہے کہ وہاں پر شدید گولہ باری کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔

آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان میں انسانی فلاح کی صورتحال انتہائی ناخوشگوار ہے۔

اسی بارے میں