شام: باغیوں کی لڑائی میں تیزی، باغیوں کے ہیڈکوارٹر پر قبضہ

Image caption رقہ شہر میں دولت السلامیہ فی عراق و الشام نامی تنظیم کے ہیڈکوراٹر پر حملہ ہوا ہے

شام میں سرگرم باغیوں کے مابین جاری لڑائی میں شدت آگئی ہے اور حلب میں القاعدہ سے منسلک دولت السلامیہ فی عراق و الشام نامی گروپ کے ہیڈکوارٹر پر مخالف باغیوں گروہوں نے قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان سینکڑوں باغیوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا جو حلب کے ہسپتال میں قائم دولت السلامیہ کے ہیڈکوارٹرمیں موحود تھے۔ البتہ اس ہسپتال میں قید لوگوں کو رہا کر دیاگیا ہے۔

معتدل اور اسلامی گروہوں کے اتحاد صدر بشار الاسد کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ لیکن اب وہ ملک کے شمال میں دولت السلامیہ کے سامنے صف آرا ہو گیا ہے۔گو اس اتحاد میں شامل گروپوں کے درمیان بہت سے اختلافات موجود ہیں ہیں لیکن دولت السلامیہ سے نفرت ان میں قدرِ مشترک ہے۔

دولت السلامیہ فی عراق و الشام نامی تنظیم نے حلب کے علاقے قاضی اسکر میں واقع بچوں کے ایک ہسپتال میں اپنا ہیڈکوارٹر قائم کر رکھا تھا۔

ایک ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دولت السلامیہ کے مخالف اس ہسپتال کے سامنے کھڑے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ انھوں نے اس ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے۔

منگل کی شام دولت السلامیہ کے ایک ترجمان ابو محمد العدنانی نے کہا تھا کہ وہ اپنے مخالفین کو تباہ و برباد کر کے ان کے خلاف ہونے والی سازش کو پنپنے سے پہلےہی کچل دیں گے۔

دولت السلامیہ کے ترجمان نے کہا کہ نیشنل کولیشن اور فری سیریئن آرمی ان کے جائز اہداف ہیں اور وہ ان کو نشانہ بنانے سےگریز نہیں کریں گے۔

دولت السلامیہ کے ترجمان کا بیان القاعدہ سے تعلق رکھنے والے النصرا فرنٹ کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کے بعد سامنے آیا ہے۔

ہفتوں سے جاری باغیوں کی لڑائی اب تک کم از کم 270 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 46 عام شہری بتائے جا رہے ہیں۔

باغیوں کے درمیان لڑائی شام کے شمالی علاقوں حلب، اور رقہ میں جاری ہے۔

دولت السلامیہ پر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیےگئے ہیں۔ ان الزامات میں تشدد، سرِ عام سزائیں اور سینکڑوں کی تعداد میں صحافیوں، کارکنوں اور مغرب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو رقہ کے ہیڈکواٹر میں قید رکھنے کے الزامات شامل ہیں۔

اسی بارے میں