سفارتی تنازع: سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مسترد

Image caption اگر بھارتی سفارت کار پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں ویزا دستاویزات میں فراڈ کے جرم میں دس سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے بھارتی سفارت کار دیویانی كھوبراگڑے کی ان کے خلاف ابتدائی سماعت کی تاریخ میں توسیع سے انکار کردیا ہے۔

دیوياني کے وکیل نے ویزا دستاویزات میں فراڈ کے معاملے میں سماعت شروع کرنے کے لیے عدالت سے مزید مہلت طلب کی تھی۔

نیویارک میں جنوبی ضلع کی عدالت کی جج سارا نٹبرن نے کہا ہے کہ سماعت کی تاریخ کو ملتوی نہیں کیا جائے گا۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب دیوياني كھوبراگڑے کا 13 جنوری کو عدالت میں پیش ہونا ہے اور ان پر مقدمے کی کارروائی شروع ہونا ایک طرح سے طے شدہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔

گذتشہ ماہ دیوانی کھوبراگڑے پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنی گھریلو ملازمہ کے ویزے کے حصول کے لیے غلط بیانی کی اور اسے کم تنخواہ ادا کی۔ تاہم دیوانی ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہیں اور وہ اس وقت ضمانت پر رہا ہے۔

دیویانی کے وکیل ڈینیئل ارشک نے دیوانی کے خلاف فرد جرم عائد کیے جانے کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی ویزہ فراڈ کیس کے حل کے لیے امریکی حکومت سے کی جانی والی اپیل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

لیکن جج نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ چونکہ دیوانی کھوربرا گڑے کو گذشتہ برس 12 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا سا لیے ان پر 13 جنوری تک فرد جرم عائد کیا جانا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی سفارت کار دیویانی كھوبراگڑے کو ان کی نوکرانی سنگیتا رچرڈز کی طرف سے شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ کو قانون کے مطابق اجرت ادا نہیں کر رہی تھیں۔

Image caption امریکہ میں بھارتی سفارت کار کی ملازمہ کے حق میں مظاہرے کیے گئے ہیں

نیویارک کی عدالت میں پیش کیے جانے والے دستاویزات کے تحت بھارتی سفارت کار نے اپنی ملازمہ کی ویزا درخواست میں لکھا تھا کہ انھیں امریکہ میں ساڑھے چار ہزار امریکی ڈالر کی تنخواہ دی جائے گی جبکہ انھیں صرف 573 ڈالر دیے جا رہے تھے۔ یہ تنخواہ امریکہ میں کم سے کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

بھارتی سفارت کار نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اس وقت ضمانت پر ہیں۔

بھارت اپنی خاتون سفارت کار کو گرفتاری کے بعد ہتھکڑی لگانے، ان کی برہنہ تلاشی اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اگر بھارتی سفارت کار پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں ویزا دستاویزات میں فراڈ کے جرم میں دس سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے جب کہ جھوٹ بولنے پر ان کو مزید پانچ سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا تھا کہ امریکہ میں بھارتی سفارت کار ’دیویانی كھوبراگڑے کو بحفاظت ملک واپس لانے کی ذمہ داری میری ہے اور میں انھیں واپس لا کر دكھاؤں گا۔‘

اسی بارے میں