اسامہ بن لادن کے محافظ کی رہائی کا امکان

امریکی حکومت کا ایک نظر ثانی پینل اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یمن کا ایک شہری جو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے امریکہ کی گوانتناموبے جیل میں قید ہے اب اسے آزاد کر دیا جا نا چاہییے۔

33 سالہ محمود مجاہد پر الزام تھا کہ وہ القاعدہ کے جنگجو اور اسامہ بن لادن کے محافظ تھے۔

انہیں سنہ 2002 سے قید میں رکھا گیا ہے تاہم ان پر اب تک باقاعدہ کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔

وہ پہلی مرتبہ اس وقت نظر ثانی بورڈ کے سامنے پیش ہوئے جب امریکی صدر براک اوباما نے گوانتاموبے جیل کے بند کیے جانے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔

گونتاناموبے جیل میں 155 قیدی موجود ہیں۔

نظر ثانی کا چھ رکنی پینل اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ وہ امریکہ کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

اس سے پہلے محمود مجاہد کو ان درجنوں افراد میں شامل کیا گیا تھا جن کا رہا کیا جانا خطرناک تھا لیکن شواہد کی عدم موجودگی کے باعث ان کے خلاف عدالتی کارروائی ممکن نہیں تھی۔

جمعرات کو پینٹاگون کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ محمود مجاہد کے رہا کیے جانے کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

محمود مجاہد کے وکیل ڈیوڈ ریمس نے خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹیڈ پریس کو بتایا ’انہیں قید نہیں کیا جانا چاہییے تھا۔ اب 12 برس بعد انہیں ان کے خاندان سے ملنے دینا چاہییے۔ اب ان کے گوانتاناموبے میں رکھے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ‘

اسی بارے میں