دیویانی کیس: ’امریکہ کے ساتھ معاملات جلد طے کر لیے جائیں گے‘

Image caption ہفتے کے روز دیویانی کھوبراگڑے اور ان کے والد نے وزیر خارجہ سے ملاقات کی

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ بھارتی سفارتکار کے حوالے سے دہلی اور واشنگٹن کے روابط میں کشیدگی نہیں ہے اور یہ معاملات جلد طے کر لیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ دیویانی کھوبراگڑے کو ویزا فراڈ اور اپنی نوکرانی کو انتہائی کم اجرت دینے کے الزامات میں 13 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور فردِ جرم عائد ہونے کے بعد ملک چھوڑنے کو کہا گیا اور وہ اب امریکہ چھوڑ چکی ہیں۔

ٹی وی پر اس معاملے پر بات کرتے ہوئے سلمان خورشید نے کہا ’اگر کوئی مسئلہ ہے بھی تو امریکہ اور بھارت باہمی طور پر حل کر لیں گے۔‘

ہفتے کے روز دیویانی کھوبراگڑے اور ان کے والد نے وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد دیویانی کھوبراگڑے نے میڈیا سے زیادہ تفصیل سے بات نہیں کی۔

’میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔ آپ سب کی حمایت کے لیے شکر گزار ہوں۔ میری حکومت میری طرف سے بات کرے گی اور میرے وکیل میری طرف سے بات کریں گے۔‘

دوسری جانب امریکہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ بھارت کی درخواست پر امریکی سفارتخانے کا ایک اہلکار واپس امریکہ آ رہا ہے۔ تاہم سلمان خورشید کے مطابق اس امریکی اہلکار کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔

سلمان خورشید نے کہا ’ہماری اپنی وجوہات ہیں اور اس بارے میں امریکہ کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ ہم امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم وہ کریں گے جو کرنا ضروری ہے۔ میرے خیال میں اس پر مزید بحث کی ضرورت نہیں۔‘

اس سے قبل امریکہ نے کہا کہ اب دیویانی کھوبراگڑے کو کوئی سفارتي استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور امریکہ میں انہیں گرفتار کرنے کے لیے وارنٹ جاری کیا جا سکتا ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا ہے کہ اب دیویانی کھوبراگڑے کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے اور وہ صرف قانون کے سامنے پیش ہونے کے لیے یہاں آ سکتی ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ كھوبراگڑے کا نام امریکی ویزا اور امیگریشن محکمے کی نگرانی لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔

بھارتی سفارتکار کے شوہر امریکی شہری ہیں اور ان کے بچے بھی امریکہ میں ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

جین ساکی کا کہنا تھا کہ ’انہیں سفارتي استثنیٰ تبھی تک حاصل تھا جب تک وہ اقوام متحدہ کے دفاتر میں کام کر رہی تھیں۔ اب ان کا تبادلہ بھارتی دفتر خارجہ میں ہو چکا ہے اور اب انہیں کوئی استثنیٰ حاصل نہیں۔‘

یاد رہے کہ دیویانی کھوبراگڑے کو تقریباً چوبیس گھنٹوں کے لیے ہی سفارتي استثنیٰ حاصل تھا۔

اسی بارے میں