لیبیا: نائب وزیر حسن الدروعی ہلاک

Image caption اکتوبر سنہ 2011 میں کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا میں مسلسل لاقانونیت کی عملداری ہے

لیبیا کے نائب وزیر صنعت کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ دارالحکومت تریپولی کے مشرق میں واقع اپنے آبائی شہر سرت کے دورے پر تھے۔

مقامی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ نائب وزیر صنعت حسن الدروعی پر سینٹرل مارکیٹ کے قریب چند نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔

دریں اثنا ملک کے جنوبی علاقے میں متحارب قبائلی تصادم میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اکتوبر سنہ 2011 میں کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا میں مسلسل لاقانونیت کی عملداری جاری ہے۔

لیبیا کے ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’گذشتہ رات نامعلوم حملہ آوروں نے حسن الدروعی کو ہلاک کردیا۔ وہ سرت کے دورے پر تھے۔

خیال رہے کہ سرت لیبیا کی خانہ جنگی کے دوران وہ آخری مقام تھا جہاں سے کرنل قذافی کو پکڑا گیا تھا اور جب وہ باغیوں سے چھپ رہے تھے تو انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا تھا۔

الدروعی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کے سابق رکن تھے اور یہ کونسل سنہ 2011 کی بغاوت کا سیاسی شعبہ تھا۔

انھیں عبوری حکومت کے پہلے وزیر اعظم نے ان کے عہدے پر فائز کیا تھا اور جب علی زیدان وزیر اعظم بنے تب بھی الدروعی اپنے عہدے پر برقرار رہے۔

Image caption لیبیا میں تقریبا 1700 مختلف مسلح ملیشیا گروپ اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم ہیں

لیبیا کی حکومت تقریباً 1700 مختلف مسلح ملیشیا کو زیر کرنے کی جدوجہد میں ہے اور یہ ملیشیا کرنل قذافی کی موت کے بعد اپنے اپنے مقاصد کے لیے سرگرم ہیں۔

چھوٹے شہروں اور قصبوں میں اب بھی مقامی مسلح گروپ بہت سے سرکاری کام انجام دیتے ہیں۔

سنيچر کو جنوبی شہر سبہا میں مخالف قبیلوں کے درمیان خونریز جنگ چھڑ گئی۔

اطلاعات کے مطابق یہ جنگ اس وقت بھڑک اٹھی جب اولاد سلیمان قبیلے کی ملیشیا کے رہنما کے ایک ذاتی محافظ کو ہلاک کر دیا گيا۔ ان کے قبیلے نے مخالف قبیلے توبو پر اپنے رہنما کے قتل کی کوشش کا الزام لگایا۔

مارچ سنہ 2012 میں دونوں قبائل کے درمیان صلح کے بعد یہ سب سے خونریز تشدد کا واقعہ ہے۔

توبو اقلیتی قبیلے کے لوگ پڑوسی ممالک چاڈ، نائجر اور سوڈا میں بھی آباد ہیں۔

اسی بارے میں