برطانوی جاسوس اب تیز گاڑی چلا سکتے ہیں

Image caption خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کو بھی پولیس، ایمبولینسوں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی طرح ٹریفک کے ان ضابطوں سے مستثنیٰ قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے

برطانیہ نے ٹریفک قوانین میں تبدیلی کر کے ملک کی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر گاڑی چلاتے وقت حدِ رفتار سے تجاوز کر سکتے ہیں۔

برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں ایم آئی فائو اور ایم آئی سکس کے اہلکاروں فی الوقت ٹریفک کے ضابطوں پر دوسرے شہریوں کی طرح عمل کرنے کے پابند ہیں، بھلے ملکی سلامتی ہی خطرے میں کیوں نہ ہو۔

مگر اب انہیں بھی پولیس، ایمبولینسوں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی طرح ٹریفک کے ان ضابطوں سے مستثنیٰ قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

امکان ہے کہ جسمانی پیوند کاری کے لیے انسانی اعضا لے جانے والی گاڑیوں، بم ڈسپوزل یونٹس اور پہاڑی علاقوں کی امدادی ٹیموں کو بھی انہی اداروں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا جن پر ٹریفک کے قوانین کی پابندی لازمی نہیں مگر اس استثنیٰ سے استفادہ کرنے کے لیے برطانوی جاسوسوں کو تیز رفتار ڈرائیونگ کا ایک کورس مکمل کرنا ہوگا۔

یہ تبدیلی ایک ایسے وقت کی جا رہی ہے جب محکمہِ آمد و رفت کے ایک سروے میں یہ واضح ہوا کہ 93 فیصد افراد اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ حدِ رفتار کی پابندی سے استثنیٰ ان سب لوگوں کے لیے ہونا چاہیے جو کہ ’جان کی حفاظت، انسانی اعضا کی حفاظت اور قومی سلامتی میں ملوث ہوں۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ چند سالوں میں ایم آئی فائو اور ایم آئی سکس کو دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ کے حوالے سے کئی مشکلات رہی ہیں۔ موجودہ برطانوی قوانین کے تحت خفیہ ایجنسیوں کا کام انتہائی مشکل رہا ہے کیونکہ ان میں عام شہریوں کے رازداری حقوق کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ ایک مشہور کیس گوانتانامو بے کے قید خانے سے رہائی پانے والے برطانوی شہری بنیام محمد پر مبینہ طور پر تشدد کا بھی تھا۔

ان تحقیقات کا آغاز سال دو ہزار نو میں شروع ہوا تھا اور ان میں ایم آئی فائیو پر الزامات عائد کیے گئے تھے کہ اس نے بنیام محمد پر دورانِ حراست تشدد کیا تھا۔ برطانوی پولیس کے تفتیشی ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ اور ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشن یا ڈی پی پی کی تفتیش کے بعد برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو اور ایم آئی سکس پر الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔

اسی بارے میں