اسرائیلی وزیر جان کیری سے معافی کے طلب گار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اسرائیل کے وزیرِ دفاع کے اس تبصرے پر اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نتن یاہو نے بھی تنقید کی ہے

اسرائیل کے وزیرِ دفاع موشے یالون نے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے بارے میں اپنے بیان پر ان سے معافی مانگ لی ہے۔

ایک اسرائیلی اخبار میں شائع ہونے والے ان سے منسوب بیان میں موشے یالون نے مشرق وسطیٰ کے بارے میں جان کیری کی پالیسی کو ’مسیحانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس بار جب وہ اسرائیل آئے تو انھوں نے کچھ چیزیں ذہن پر حاوی کر رکھی تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ وہ یہ سب کچھ’مسیحانہ‘ جذبے سے کر رہے تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’جان کیری نے وادئ اردن کے لیے جو سکیورٹی منصوبہ اسرائیل کے سامنے رکھا تھا وہ اس کی اہمیت اس کاغذ جتنی بھی نہیں تھی جس پر وہ تحریر تھا‘ اور یہ کہ امریکی وزیرِ خارجہ انہیں مسئلہ فلسطین کے بارے میں کچھ سکھا نہیں سکتے۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق انھوں نے یہ تبصرہ نجی بات چیت کے دوران کیا تھا۔

اس بیان پر امریکی حکام نے منگل کو اپنے قریبی حلیف اسرائیل کی سرزنش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر یہ بیان درست ہے تو یہ انتہائی ’ناگوار گزرنے والا‘ اور ’نامناسب‘ بیان ہے۔

امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی سرزنش ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

منگل کو رات گئے اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اپنے معذرتی بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیل اور امریکہ دونوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ جان کیری کی قیادت میں اسرائیل اور فلسطین کی امن بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔‘

بیان میں اسرائیل کی وزارتِ دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ہم اس سلسلے میں سینیٹر کیری کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں اور وزیرِ دفاع امریکی وزیر کو ناراضگی کی کوئی وجہ نہیں دینا چاہتے اور اگر ان سے منسوب الفاظ سے جان کیری کو تکلیف پہنچی تو وہ اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔‘

واشنگٹن سے نامہ نگار باربرا پلیٹ اُشر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع کے خیالات چاہے دیگر عہدیداروں کی بھی آواز ہوں لیکن اسرائیلی امریکہ سے اپنے تعلقات خراب نہیں ہونے دینا چاہتے۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع کے اس تبصرے پر اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نتن یاہو نے بھی تنقید کی تھی۔ انھوں نے اسرائیلی پارلیمان سے خطاب میں کہا تھا کہ: ’اگر ہم امریکہ سے کسی معاملے پر اتفاق نہیں بھی کرتے تب بھی ہم معاملے سے ہٹ کر بات نہیں کرتے اور ذاتیات پر نہیں اترتے۔‘

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے حالیہ چند ماہ میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی دورے کیے ہیں جن کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان شروع ہونے والے امن مذاکرات کو مہمیز دینا تھا تاہم وہ اپنی ان کوششوں میں کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دیے ہیں۔

جان کیری نے رواں ماہ کے آغاز میں بھی اسرائیلی اور فلسطینی نمائندوں سے امن معاہدے کے حتمی ڈھانچے پر بات چیت کی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق وزیرِ خارجہ کیری سکیورٹی، سرحد، یروشلم اور فلسطینی پناہ گزینوں جیسے کلیدی معاملات پر اجماع کے خواہشمند ہیں تاکہ اپریل میں ایک جامع معاہدے پر دستخط ہو سکیں۔

اطلاعات کے مطابق جان کیری کی امن تجاویز میں مستقبل کی فلسطینی ریاست اور اردن کے درمیان واقع وادئ اردن میں سکیورٹی انتظامات کی تجویز بھی شامل ہے۔

تاہم اسرائیل کا کہنا ہے وہ فلسطینیوں سے مستقبل میں کسی بھی امن معاہدے میں اس علاقے میں اپنی عسکری موجودگی سے دستبردار نہیں ہوگا۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان گذشتہ امن مذاکرات یہودی بستیوں کی تعمیر کی وجہ سے ناکام ہوئے تھے اور اسرائیل نے گذشتہ ہفتے ہی غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں مزید 1400 نئے مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا ہے۔

فلسطینی مذاکرات کار صائب اراکات نے کہا ہے کہ اسرائیل کا یہ اعلان ’امن کوششوں کو تباہ کرنے کے لیے اس کے عزم کا اظہار ہے۔‘

اسی بارے میں