افغانستان سے نکلنے والی جدید برطانوی فوج

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption برطانوی افواج 2014 کے بعد افغانستان سے نکلنے والی ہیں

برطانوی افواج اس سال کے آخر میں افغانستان میں اپنا مشن ختم کر دے گی۔

تمام برطانوی فوجی کارروائیاں 2014 کے اختتام تک ختم کر دی جائیں گی اور ذمہ داریاں افغان افواج کے سپرد کر دی جائیں گی۔

یہ اب تک غیر واضح ہے کہ برطانوی فوج نے کیا کامیابیاں حاصل کیں مگر ایک چیز حتمی ہے کہ یہ اس وقت کی نسبت اب زیادہ ساز و سامان سے لیس ہیں کہ جب یہ یہاں آئی تھی۔

تبدیل شدہ رائفلیں

کابل کے باہر ایک برطانوی فوجی اڈے پر سٹاف سارجنٹ نِک براؤن نے، جن کا تعلق شاہی سکاٹس ڈریگون گارڈز کے ساتھ ہے، مجھے دکھایا کہ ان کی ذاتی رائفل میں کیا بہتری کی گئی ہے۔

یہ ایک عام رائفل ہے ’ایس اے 80‘ ہے اور کم ہی کسی فوجی کی اچھی دوست رہی ہے۔

اس کے ابتدائی ماڈلز میں کچھ مسائل تھے جس میں یہ فائر کرتے وقت یہ جام ہوجاتی تھی یا پھر بالکل ہی خراب ہوجاتی تھی۔

سٹاف سارجنٹ براؤن کا کہنا ہے کہ اب اسے ’مکمل طور پر بدل دیا گیا ہے‘۔

وہ اس کی نئی گرفت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں جو ایک چھوٹے میدان میں جنگ کے لیے ہے یا اس کی نالی پر لگا فلیش ایلیمنیٹر جو دشمن کی نظروں سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

اس پر لگی لیزر لائٹ نشانے کی نشاندہی اور اس پر فائر کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کے میگزین میں ایک چھوٹی سی گکڑکی ہے جس سے آپ گولیاں کی تعداد گن سکتے ہیں۔

دشمن سے اوجھل ہونے کا لبادہ

ادھر برطانوی شہر برسٹل میں وزارتِ دفاع کی ساز و سامان اور امداد کی ٹیم نے اس جنگ کے دوران بہت محنت سے فوجیوں کے ذاتی ساز و سامان کو بہتر بنانے پر کام کیا ہے۔

فوجیوں کے پاس اب نیا اور مختلف خطوں میں استعمال ہونے والا ساز و سامان ہے جو صحرا اور ہلمند کے ’گرین زون‘ دونوں کے لیے موزوں ہے۔

پہلے جہاں فوجی یہ سوچتے تھے کہ اپنے بوٹ خود خرید لینا بہتر ہے وہاں اب ان کے لیے اس ضمن میں وسیع انتخاب موجود ہے۔

سب سے اہم طور پر اب فوجیوں کے لیے بہترین زرہ بکتر ہے جن میں ’اوسپری جیکٹ‘ سے لے کر ’نیپی‘ جیسی چیزیں موجود ہیں جو فوجیوں کے نازک اعضا کو دھماکے کی صورت میں بہتر تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

مگر یہ سب سستا نہیں ہے کیونکہ اس مد میں ’ارجنٹ آپریشن ریکوائرمنٹ‘ UOR یا فوری کارروائی کی ضروریات کے لیے چھ ارب پاؤنڈ خرچ کیے جاچکے ہیں۔

یہ رقم وزارتِ دفاع کے سالانہ بجٹ کے علاوہ ہے جو 34 ارب پاؤنڈ ہے اور اس میں غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں۔

موبائل تابوت بدل دیے گئے

بکتر بند گاڑیاوں کی مثال ہی لیجیے، فوج کو کشت کے لیے فاکس ہاؤنڈ گاڑیاں فراہم کرنے کے لیے وزارتِ دفاع کو ایک دہائی لگ گئی۔

برطانوی افواج عراق میں بالکل ہی ناموزوں ’سنیچ لینڈ روور‘ کے ساتھ گئی تھیں جنہیں ’موبائل تابوت‘ بھی کہا جاتا تھا۔

انہیں ویکٹر سے تبدیل کیا گیا مگر یہ بھی سڑک کنارے نصب بموں کی زد سے محفوظ نہیں تھیں۔

رچرڈ نارتھ منسٹری آف ڈیفیٹ یعنی وزارتِ شکست نامی کتاب کے مصنف ہیں اور وزارتِ دفاع میں فیصلے کرنے کے عمل کے بہت بڑے ناقد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں فوجی حقیقی لڑائیاں لڑتے رہے ہیں وہیں اعلیٰ فوجی اور سرکاری اہلکار اور افسر فوجیوں کی کٹوں یعنی سازوسامان پر بے تکی لڑائیاں لڑتے رہے ہیں۔

آخر میں ان کا کہنا ہے کہ برطانوی فوج کے پاس ’مختلف گاڑیوں کا کباڑ خانہ بچ جائے گا جن کی دیکھ بھال ایک مصیبت بن جائے گی۔‘

٭٭امریکی فوج کے تجربے نے مسائل کو مزید اجاگر کیا ہے۔ امریکیوں نے افغانستان اور عراق میں جنگ کے لیے بارودی سرنگوں سے بچاؤ والی 25000 گاڑیاں خریدی تھیں لیکن وہ ان میں سے او صرف ایک تہائی ہی اپنے پاس رکھیں گے لیکن ان کی مرمت پر اور ان میں تبدیلیوں پر تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

پستولوں پر پیسے کا ضیاع

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانوی وزارتِ دفاع نے ’سِگ ساؤر‘ پستولوں کو ’گلوک‘ کے ساتھ بدل دیا تھا

اور یہ صرف گاڑیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ افغانستان کی جنگ کے دوران ایک ’ارجنٹ آپریشن ریکوائرمنٹ‘ UOR یا فوری کارروائی کی ضروریات کی مد میں 6000 ’سِگ ساؤر‘ پستولیں بھی خریدی گئیں۔

وزارتِ دفاع یہ بتانے سے انکاری ہے کہ ان پر کتنا پیسہ خرچ ہوا جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اسے ’سِگ ساؤر‘ پستولوں کو ’گلوک‘ پستولوں کے حق میں چھوڑنے پر شرمندگی اٹھانا پڑی۔

وسیع جائزوں اور ٹیسٹ کے بعد وزارتِ دفاع نے تمام پرانے براؤننگ پستولوں کو نئے گلوک پستولوں کے ساتھ تبدیل کرنے پر نو ملین پاؤنڈ خرچ کیے تھے۔

میجر رچرڈ سٹریٹ فیلڈ کا، جنہوں نے ہلمند میں رائفلز کے ساتھ خدمات سرانجام دیں، کہنا ہے کہ سِگ ساؤر پیسے کے ضیاع کی ایک مثال ہے۔

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ’ارجنٹ آپریشن ریکوائرمنٹ‘ کے ذریعے اخراجات کے نتیجے میں برطانوی فوج سرمایہ کاری کے اہداف کو حاصل نہیں کر پائی ہے۔

تاہم میجر جنرل اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ عوام کا پیسہ ضائع کیا گیا ہے۔

فوج کے مواصلات اور امداد کے شعبے کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے وہ اصرار کرتے ہیں کہ افغانستان سے واپس لائی جانے والی کِٹس استعمال کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس کی بڑی تعداد رکھی جائے گی جبکہ کچھ نہیں رکھی جا سکے گی کیونکہ وہ پرانی اور بوسیدہ ہو چکی ہوں گی۔‘

سِگ پستولوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ انہیں افغانستان میں استعمال کیا گیا ہے اور کچھ رقم انہیں ختم کرنے کی صورت میں واپس ملے گی۔

ڈیوڈ کیمرون نے حال ہی میں کہا کہ برطانیہ کے پاس اب دنیا کی بہترین اسلحے سے لیس تربیت یافتہ فوجی ہیں جس سے بہت سے متفق ہیں کیونکہ اب فوجیوں کے خاندانوں کو ساز و سامان پر خود خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی اور نہ ہی انہیں امریکیوں سے بھیک مانگنے یا ادھار مانگنے کی ضرورت ہوگی۔

یہ الگ بات ہے کہ یہ ترقی سستی نہیں ہوئی اور اس میں صرف رقم ہی نہیں بلکہ انسانی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں۔ اس پر بہت لمبا عرصہ صرف ہوا اور اس سطح تک پہنچنے میں قریباً ایک دہائی کا عرصہ لگا۔

اسی بارے میں