’مظاہرے ملکی استحکام کے لیے خطرہ ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوکرائن میں پولیس نے گذشتہ ہفتے ہونے والی جھڑپوں کے دوران کم سے کم 30 افراد کو گرفتار کیا تھا

یوکرائن کے صدر وکٹر یانوکووچ نے دارالحکومت کیو میں جاری پولیس اور حکومت مخالف مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کو ملکی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

انھوں نے پیر کی شام کو ایک بیان میں کہا کہ اب جب کہ یہ پرامن مظاہرے جھڑیوں اور تشدد میں تبدیل ہو رہے ہیں تو مجھے پورا یقین ہے کہ یہ نہ صرف دارالحکومت کیو بلکہ پورے یوکرائن کے لیے خطرہ ہیں۔

یوکرائن کے صدر کا کہنا تھا کہ وہ اب حکومت مخالف رہنماوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

یوکرائن میں اتوار کو صدر وکٹر یانوکووچ کے خلاف نکالی جانے والی پرامن ریلیوں کے بعد فسادات شروع ہو گئے تھے۔

یوکرائن کی پارلیمان میں صدر وکٹر کے حامیوں نے گذشتہ ہفتے پولیس کو مظاہرین سے نمبٹنے کے لیےاضافی اختیارات دیے تھے۔

یوکرائن میں پولیس نے گذشتہ ہفتے ہونے والی جھڑپوں کے دوران کم سے کم 30 افراد کو گرفتار کیا تھا۔

ان جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جن میں درجنوں پولیس اہل کار بھی شامل تھے۔

یوکرائن کی فادر لینڈ پارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق گذشتہ ماہ زخمی ہونے والے سابق وزیرِ داخلہ حزبِ مخالف کی جانب سے حکام کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈینئل سینڈ فورڈ کا کہنا ہے کہ چند مظاہرین نے پولیس پر پیٹرول بم بھی پھینکے۔

نامہ نگار کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پر پلاسٹک کی گولیاں کے علاوہ آنسو گیس کا بھی استعمال کیا۔

خِیال رہے کہ گذشتہ سال یواکرائن کے صدر وکٹر یانوکووچ نے کہا تھا کہ انھوں نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت کے ایک معاہدے کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت یورپی یونین ممالک کے سامان کے لیے یوکرائن کی سرحدیں کھولی جاتیں اور لوگوں کی آمدو رفت میں آسانیاں پیدا ہوتیں۔

انھوں نے کہا کہ تھا وہ اس معاہدے کے لیے روس کے ساتھ اپنی تجارت کی قربانی پیش نہیں کر سکتے کیونکہ روس اس معاہدے کا مخالف ہے۔

یوکرائن کے صدر کے اس فیصلے کے خلاف دارالحکومت کیو میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں