’ایران کو مذاکرات میں شامل نہ کریں‘

Image caption شامی حزب اختلاف نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر ایران نے ان مذاکرات میں شرکت کی تو وہ ان میں شریک نہیں ہوں گے

امریکہ نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ بدھ سے شام پر ہونے والے مذاکرات میں ایران کو بلانے کے ارادے کو ترک کر دے۔

امریکی حکام اور مغرب کی حمایت یافتہ شامی حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ایران نے ان مذاکرات کے مقصد کی حمایت نہیں کی ہے جس کا مقصد شام کی عبوری حکومت کا قیام ہے۔

حزبِ اختلاف کی قومی اتحاد نے دھمکی دی ہے کہ وہ ان مذاکرات سے نکل جائیں گے اگر ایران جو شامی حکومت کا اہم حلیف ہے ان مذاکرات میں شریک ہوا۔

تاہم شامی صدر نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ قومی اتحاد کے ساتھ اقتدار میں شراکت قبول نہیں کریں گے۔

بشارالاسد نے پیر کو کہا کہ اس بات کا امکان کہ قومی اتحاد کا کو ایک نئی حکومت میں وزارت دی جائے گی ’بالکل غیر حقیقت پسندانہ عمل ہے‘۔

صدر بشار الاسد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو انٹرویو میں کہا کہ وہ اقتدار سے علیحدہ نہیں ہوں گے اور یہ کہ وہ تیسری بار صدارت کے لیے میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شامی حزبِ اختلاف نے اس سے قبل اس وقت تک سوئٹزرلینڈ جانے سے انکار کر دیا تھا جب کہ شامی صدر بشارالاسد کو آئندہ بننے والی کسی عبوری حکومت میں حصہ نہ لینے دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بشارالاسد نے پیر کو کہا کہ اس بات کا امکان کہ قومی اتحاد کا کو ایک نئی حکومت میں وزارت دی جائے گی ’بالکل غیر حقیقت پسندانہ عمل ہے‘

قومی اتحاد نے دو دن قبل ان مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا مگر اب ان کا کہنا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے اگر ایران نے شرکت کی۔

قومی اتحاد کے چیف آف سٹاف منذر اکبک نے کہا کہ ایران کی شمولیت ان وعدوں کے خلاف ہے جو انہیں موصول ہوئے تھے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ قومی اتحاد نے اس کانفرنس میں ’شرکت کو معطل‘ کر دیا ہے ’جب تک ایران کا دعوت نامہ واپس نہیں لیا جاتا‘۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایران کو دعوت دی ہے کہ وہ شام کے تنازعے پر اس ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے۔

بان کی مون نے کہا کہ انھیں ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ایران شام میں عبوری حکومت کے قیام میں مثبت کردار ادا کرے گا۔

ان مذاکرات کو جنیوا ٹو کا نام دیا گیا ہے اور یہ جنیوا کے قریب مونٹرو نامی قصبے میں بدھ سے شروع ہو رہے ہیں۔

اتوار کو بان کی مون نے کہا کہ ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ایران کو ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی تو ایران ’مثبت اور تعمیری‘ کردار ادا کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بان کی مون نے کہا کہ ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ایران کو ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی تو ایران ’مثبت اور تعمیری‘ کردار ادا کرے گا

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ایران کو شامی تنازعے کے کسی بھی حل میں شامل کرنا پڑے گا۔

اس کے کچھ ہی دیر بعد ایران نے کہا کہ اس نے یہ دعوت قبول کر لی ہے۔ ایران نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ بغیر کسی پیشگی شرائط کے مذاکرات میں شامل ہونا چاہتا ہے۔

اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا شام کے صدر بشار الاسد کے قریبی حلیف ایران کو مذاکرات میں حصہ لینا چاہیے یا نہیں۔

اقوامِ متحدہ اور روس شام میں ایران کے کردار کے حامی ہیں، لیکن امریکہ کو اس پر تحفظات ہیں، کیونکہ ایران نے 2012 کے جنیوا مراسلے کی توثیق نہیں کی جس میں شام کے عبوری سیاسی عمل کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

امریکہ کو ایران کی جانب سے شام میں فوجی بھیجنے پر اور اس کی لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ کی حمایت پر بھی تشویش ہے۔ حزب اللہ نے شام کی سرکاری فوج کا ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے اپنے جنگجو بھیجے تھے۔

یاد رہے کہ شامی حزبِ اختلاف کے دھڑوں کے اتحاد نے رائے شماری کے ذریعے مذاکرات میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک تخمینے کے مطابق 20 لاکھ شامی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں جب کہ 65 لاکھ سے زائد ملک کے اندر بےگھر ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں