شام پر تشدد اور 11 ہزار افراد کو پھانسی دینے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بدھ سے سوئٹزرلینڈ میں شام کے متعلق امن مذاکرت شروع ہو رہے ہیں

جنگی جرائم کے تین سابق ججوں کی حالیہ رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ اس بات کے واضح شواہد ہیں کہ شام میں بغاوت کے آغاز سے جنگی قیدیوں پر منظم طریقے سے تشدد کیا گیا ہے اور ان میں سے 11 ہزار افراد پھانسی دی گئي ہے۔

اس رپورٹ کے ایک مصنف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں حکومت کے شامل ہونے کے شواہد ہیں۔ تاہم دمشق نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

جانچ کرنے والوں نے ہزاروں مردہ قیدیوں کی تصاویر دیکھیں اور ان کا جائزہ لیا۔ یہ تصویریں شام سے باہر ایک باغی کے ذریعے چوری سے لے جائي جا رہی تھی۔

واضح رہے کہ یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب ایک دن بعد سوئٹزرلینڈ میں شام کے متعلق امن مذاکرت ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات کو تین سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس جنگ میں ابھی تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

یہ رپورٹ قطر کی ایما پر تیار کی گئی ہے جو شام کے باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔

یہ رپورٹ اس باغی فوجی کے شواہد پر منبی ہے جس نے مبینہ طور پر 11 ہزار قیدیوں کی 55 ہزار تصویریں افشا کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جانچ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات فاقہ کشی کے سبب ہوئی ہیں

ان میں سنہ 2011 میں بغاوت کے آغاز سے لے کر گذشتہ سال سنہ 2013 جولائی تک کی تصویریں شامل ہیں۔ معائنہ کاروں کا کہنا ہے کہ تصویروں میں دکھائے جانے والے زیادہ تر جسم سوکھ چکے ہیں، بہت سے جسموں پر تشدد کے آثار ہیں جبکہ بہت سوں کا گلا گھونٹا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے ایک مصنف پروفیسر سر جیفری نائس نے بی بی سی کوبتایا کہ ’جس سطح پر مسلسل ہلاکتیں ہوئی ہیں اس سے شواہد ملتے ہیں کہ ان میں حکومت شامل ہے اور اس کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔‘

فورنسک تفتیش کار سٹوارٹ ہیملٹن نے بھی ان شواہد کی جانچ کی اور بی بی سی کو بتایا کہ جن تصاویر کو انھوں نے دیکھا ہے ’ان میں سے زیادہ تر کی موت واضح طور پر فاقہ کشی کی وجہ سے ہوئي ہے۔‘

ان کے مطابق ’بہت سے جسم کو باندھ دیا گیا تھا جبکہ بہت سے لوگوں کو مارا پیٹا گيا تھا اور بہت سے افراد کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا۔‘

بیروت میں بی بی سی کے جم موئر کا کہنا ہے کہ اگر ان یقین کیا جائے تو اس میں بہت ہی ترتیب کے ساتھ جسموں کی دستاویز تیار کی گئي ہے اور ہر جسم کو ایک نمبر دیا گیا ہے۔

شام کی حکومت نے اس رپورٹ پر رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن اس نے ہمیشہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزام کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں