آئی بی ایم کی انتظامیہ کا بونس نہ لینے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے سنہ 2014 میں اپنے منافعے میں دس فیصد اضافے کی توقع ہے

کمپیوٹر مصنوعات تیار کرنے والی دنیا کی سب بڑی کمپنی آئی بی ایم کے چیف ایگزیکٹیو اور سینیئر انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ 2013 کے لیے بونس نہیں لیں گے۔

آئی بی ایم کی انتظامیہ کی طرف سے یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب کمپنی نے گذشتہ سال کے مقابلے میں سنہ 2013 میں مصنوعات کی فروخت میں پانچ فیصد اور منافعے میں ایک فیصد کمی کا اعلان کیا۔

آئی بی ایف کے چیف ایگزیکٹیو جینی رومیٹی نے ایک بیان میں کہا: ’ہم نے کاروبار میں ٹھوس پیش رفت کی ہے جو ہمارے مستقبل کی ضامن ہے۔ کمپنی کی سالانہ کارکردگی کے تناظر میں میں نے اور میری سینیئر ٹیم نے مشورہ دیا ہے کہ ہم کمپنی کی طرف سے سنہ 2013 کے لیے مراعات کے طور پر دی جانی والی اضافی رقم نہ لیں۔‘

کمپنی کو معاشی طور پر ابھرتے ہوئے ممالک میں منافعے میں کمی کا سامنا کرنا پڑا جہاں معیشت کی بہتری میں سست روی کی وجہ سے کمپنی کی مصنوعات کی مانگ میں کمی واقع ہوئی۔

آئی بی ایم کے منافعے میں زیادہ کمی’ برِک‘ کہلائے جانے والے ممالک میں ہوئی جس میں برازیل، روس، بھارت اور چین شامل ہیں جہاں کمپنی کی مصنوعات کی فروخت میں 14 فیصد کمی واقع ہوئی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے سنہ 2014 میں اپنے منافعے میں دس فیصد اضافے کی توقع ہے کیونکہ وہ کاروبار کے لیے نئے مواقع تلاش کر رہی ہے۔

جینی رومیٹی نے کہا: ’ہم اپنے کاروبار میں تبدیلی لاتے رہیں گے اور اسی جگہ سرمایہ کاری کریں گے جہاں کاروبار بڑھے گا۔‘

آئی بی ایم نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ ڈیٹا سٹوریج سینٹر اور کلاؤڈ سٹوریج کے کاروبار میں 1.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے 15 نئے سینٹر بنائے گی، جس سے سنہ 2014 میں ان سینٹروں کی تعداد 40 ہو جائے گی۔

آئی بی ایم کو توقع ہے کہ اس کی کلاؤڈ سروس کی مارکیٹ سنہ 2020 تک 200 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

اسی بارے میں