برما: بودھوں کے حملے میں ’30 روہنگیا مسلمان‘ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برما کی ریاست رخائن میں جون سنہ 2012 میں بودھوں اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں میں200 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں افراد بےگھر ہو گئے تھے

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق برما کی ریاست رخائن میں گذشتہ ہفتے بودھوں کے حملوں میں 30 سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا۔

دو بین الاقوامی امدادی افسران جنھیں اس علاقے میں رسائی دی گئی، کہتے ہیں کہ انھیں علاقے میں وسیع پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کے ثبوت ملے ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپ ’فور ٹی فائی رائٹس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران سلسلے وار حملے کیے گئے۔

دوسری جانب حکومت اور مقامی حکام نے قتل و غارت کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔

تازہ ترین واقعہ گذشتہ ماہ برما کی ریاست رخائن کی ایک بستی میں پولیس اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب یہ خبر پھیلی کہ متعدد روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش کی سرحد پر فرار ہونے کی کوشش کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔

صورتِ حال اس وقت مزید بگڑ گئی جب ایک مقامی پولیس اہل کار کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ لاپتہ ہو گیا ہے، اور یہ سمجھا گیا کہ اسے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مقامی بودھوں نے سیکورٹی فورسز کی مدد سے ایک گاؤں میں بدلے کی کارروائی میں حصہ لیا۔

برما میں بی بی سی کے نامہ نگار جونا فشر کا کہنا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق مرنے والے افراد کی تعداد 30 ہے۔

کچھ اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں 70 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی فلاحی کاموں کی سربراہ ویلری ایمس نے برما کی حکومت سے استدعا کی ہے کہ وہ امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقے میں جانے کی اجازت دے تاکہ فوری طور پر اس واقعے کی تحقیق شروع کی جا سکے۔

برما کی ریاست رخائن میں جون سنہ 2012 میں بودھوں اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں میں200 افراد ہلاک جب کہ ہزاروں بےگھر ہو گئے تھے۔

برما میں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق روہنگیا دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی قوموں میں سے ایک ہیں۔

اسی بارے میں