مراکش: ریپ کے متنازع قانون میں ترمیم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تعزیرات کی دفعہ 475 پر سخت عوامی ردِ عمل آیا

مراکش کی پارلیمان نے ریپ کے متنازع قانون کی اس شق میں ترمیم کی ہے جس کے تحت کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو سزا سے بچنے کے لیے ان لڑکیوں سے شادی کی اجازت تھی۔

یہ قدم انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے ریپ کا شکار کم عمر لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مہم چلائے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

تعزیرات کی دفعہ 475 پر سخت عوامی ردِ عمل آیا۔ اسے گذشتہ سال سب سے پہلے مراکش کی اسلامی حکومت نے تجویز کیا تھا۔ لیکن یہ معاملہ سنہ 2012 میں اس وقت عوامی سطح پر اجاگر ہوا جب 16 سالہ آمنہ فیلالی نے انھیں ریپ کرنے والے کے ساتھ شادی کرنے پر مجبور کرنے کے بعد خود کشی کر لی۔

شادی کے بعد آمنہ نے مصطفیٰ فیلاک پر تشدد کا الزام لگایا، جسے مصطفیٰ رد کرتا ہے۔ شادی کے سات ماہ بعد آمنہ نے چوہے مار دوا کھا کر خودکشی کر لی۔

اس واقعے نے مراکش کو ہلا کر رکھ دیا، اسے بہت زیادہ میڈیا کوریج دی گئی اور اس کے خلاف دارالحکومت رباط میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔

دفعہ 475 کے تحت اگر کوئی کسی کم عمر کو’تشدد کے بغیر اغوا کرتا ہے یا دھوکہ دیتا ہے‘ یا ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ایک سے پانچ سال تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

لیکن اس کی دوسری شق کے تحت اگر زیادتی کرنے والا شخص ریپ کا شکار خاتون سے شادی کر لیتا ہے تو وہ سزا سے مستثنیٰ ہے جب تک کہ اس کی شادی ختم نہ کر دی جائے۔

اس قانون کی وجہ سے پراسیکیوٹر آزادنہ طور پر ریپ کے الزامات کو ثابت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

مراکش کے دیہاتی علاقوں میں جو غیر شادی شدہ لڑکی یا عورت اپنی کنوار پن کھو دے چاہے وہ ریپ کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو، اسے خاندان کے لیے شرم کا باعث سمجھا جاتا ہے اور شادی کے لیے موزوں نہیں قرار دیا جاتا۔

بعض خاندانوں کا خیال ہے کہ ریپ کا شکار خاتون کے لیے اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے کے ساتھ شادی کرنے سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں