مجھ پر شفاف مقدمے کا امکان نہیں ہے: سنوڈن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’غیر جانبدار مقدمے کا امکان نہ ہونا ان کے لیے خصوصی طور پر پریشان کن ہے‘

امریکی ایجنسی این ایس اے کے سابق کانٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ امریکہ میں ان پر صاف و شفاف مقدمہ چلایا جائے اور ان کا واپس امریکہ جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جس سو سال پرانے قانون کے تحت ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی ہے اس میں عوامی مفاد کی بنیاد پر ملزم کے پاس دفاع کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

’این ایس اے نے روزانہ 20 کروڑ ایس ایم ایس جمع کیے‘

امریکہ: ایڈورڈ سنوڈن کو عام معافی دینے پر غور

انٹرنیٹ پر سوال و جواب کے ایک سیشن میں انھوں نے کہا: ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں واپس جاؤں اور کسی جیوری کے سامنے اپنا موقف پیش کر سکوں۔‘

ایڈورڈ سنوڈن نے کہا کہ غیر جانبدار مقدمے کا امکان نہ ہونا ان کے لیے خصوصی طور پر پریشان کن ہے۔

’میرے خیال میں میری امریکہ واپسی حکومت، عوام اور میرے لیے بہترین حل ہے، تاہم بدقسمتی سے موجودہ قوانین کے تحت میرے جیسے راز افشا کرنے والے افراد کے لیے عدم تحفظ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں۔‘

30 سالہ ایڈورڈ سنوڈن کو روس میں عبوری پناہ دی گئی ہے۔ ایڈورڈ سنوڈن نے امریکہ کے خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے راز افشا کیے تھے جن میں بتایا گیا تھا کہ ایجنسی بڑے پیمانے پر امریکہ اور دنیا کے مختلف ممالک میں فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کی غیر قانونی نگرانی کرتی ہے۔

ان معلومات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکہ میں بحث شروع ہوگئی تھی کہ این ایس اے کی جانب سے سکیورٹی اور قومی سلامتی کے نام پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا کس قدر جائز ہے۔

اس سے پہلے سنوڈن نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ ’جہاں تک ذاتی اطمینان کی بات ہے تو میں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔ میں جیت گیا ہوں۔‘

جرمن چانسلر کے فون کی نگرانی

گذشتہ سال یہ انکشاف ہونے کے بعد کہ امریکی ادارے جرمن چانسلر کا فون ٹیپ کرتے رہے ہیں، انگیلا میرکل نے امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے اعتماد شکنی کی ہے جو ناقابلِ قبول ہے۔

معاملے کے سفارتی حل کے لیے متعدد کوششوں کے بعد گذشتہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ وہ امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے جاسوسی کو امریکہ اور جرمنی کے تعلقات میں آڑے نہیں آنے دیں گے۔

جرمنی کے زیڈ ڈی ایف ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اوباما نے کہا عندیہ دیا کہ امریکہ کی جانب سے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کے فون ٹیپ کیے جانا غلطی تھی جو آئندہ نہیں دہرائی جائے گی۔

اس کے علاوہ صدر اوباما نے جاسوسی کے طریقوں پر قدغنیں لگانے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔

اسی بارے میں