مصر: بغاوت کی تیسری سالگرہ، جھڑپوں میں 29 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دارالحکومت قاہرہ میں سب سے زیادہ لوگ مارے گئے

مصر کے سابق سربراہ حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف تحریک کی تیسری سالگرہ کے موقع پر حکومت کے حامیوں اور مخالفین میں ہونے والی جھڑپوں میں کم سے کم 29 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

انقلاب کی تیسری سالگرہ کے موقعے پر فوج کی حمایت یافتہ موجودہ حکومت اور معزول صدر محمد مرسی کی حمایت یافتہ تنظیم اخوان المسلمین دونوں نے ریلیاں نکالنے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اخوان المسلمون ’دہشت گرد‘ تنظیم

دارالحکومت قاہرہ میں سب سے زیادہ لوگ مارے گئے جبکہ الیگذینڈریا میں بھی ایک خاتون کی ہلاکت ہوئی۔

ملک بھر میں اور خاص کر دارالحکومت قاہرہ میں تشدد کے خدشے کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ جمعے کو قاہرہ میں ہوئے بم دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

مصر کے وزیر داخلہ محمد ابراہیم نے عوام سے اس موقع پر منعقد ہونے والے پروگرام میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔ اخوان المسلمون کو تنبیہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالات کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے نمٹا جائے گا۔

جنوری 2011 کو مصر میں حسنی مبارک کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز ہوا تھا اور اس عوامی بغاوت نے ان کے کئی دہائیوں پر مشتمل عہد کا خاتمہ کر دیا تھا۔

ملک اور خصوصاً دارالحکومت قاہرہ میں موجود کشیدگی کی وجہ سے انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ اخوان المسلمین گذشتہ جولائی سے سراپا احتجاج ہے جب ان کے سربراہ محمد مرسی کو صدر کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔ اب ان کی جگہ فوج کی حمایت کے ساتھ جنرل عبدالفتح السیسی ملک کے صدر ہیں۔

اینٹی کو الائنس یعنی تختہ پلٹ مخالف اتحاد نے جو اخوان المسلمین کی سربراہی میں کام کر رہا ہے، اپنے ایک بیان میں 18 دنوں کے احتجاج کی اپیل کی ہے جو سنیچر سے شروع ہوئے ہیں۔

18 دن کی اپیل سنہ 2011 میں ہونے والے احتجاج کی مناسبت سے ہے جس کے نتیجے میں حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔

اخوان المسلمین کو حال ہی میں عبوری حکومت نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور اس پر ملک گیر پیمانے پر پرتشدد حملوں کا الزام ہے جسے اخوان المسلمین مسترد کرتی ہے۔

جمہوری طور پر مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کو ان کے ‏خلاف عوام کے مظاہرے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گيا تھا۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے عبوری صدر جنرل السیسی صدر کا انتخاب لڑیں گے اور مصر میں ایک بار پھر فوج کا مضبوط آدمی برسرِاقتدار آ جائے گا جیسا کہ گذشت چھ دہائیوں میں رہا ہے۔

اسی بارے میں