امریکہ پسپائی اختیار نہیں کر رہا: کیری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام کے مسئلے اور ایران سے جوہری معاہدے پر امریکہ کے بعض اتحادی ناراضگی کا اظہار کر چکے ہیں

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے امریکہ کی عالمی سطح پر پسپائی اختیار کرنے کی رائے اور اس پر تنقید کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

جان کیری نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’سچ سے بہتر کچھ نہیں ہے۔‘

امریکی وزیر خارجہ نے اپنی37 منٹ کی تقریر میں تفصیل وار امریکہ کی دنیا بھر میں جاری سنجیدہ سرگرمیوں کے بارے میں بتایا۔

انھوں نے اپنی تقریر میں شام کے تنازعے کو حل کرنے کے بارے میں کوششیں، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معاہدہ کرانے کی کوشش اور ایران سے اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کرنے جیسے معاملات پر بات کی۔

امریکی وزیر خارجہ نے مشرقِ وسطی کے علاوہ چین، شمالی کوریا اور جنوبی سوڈان میں جنگ بندی کی کوششوں سمیت دیگر خطوں میں بھی امریکی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا۔

امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے بھی عالمی اقتصادی فورم میں اپنی تقاریر میں امریکہ کے پسپائی اختیار کرنے کی رائے کو مسترد کیا۔

ناقدین کے مطابق جب اعلیٰ امریکی حکام کو یہ وضاحت کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ وہ پسپائی اختیار نہیں کر رہے تو پھر شاید وہ پسپائی کے راستے پر ہیں۔

امریکی وزیر جان کیری نے مزید کہا کہ ’یہ رائے غلط ہے کہ امریکہ اپنی سرگرمیوں کو کم کر رہا ہے اور یہ رائے سادگی پر مبنی ہے کہ ہمارے اثر و رسوخ کا تمام انحصار فوج پر ہے، اگر ہماری کسی جگہ بڑی فوجی طاقت موجود نہیں یا ہم فوری فوجی جواب نہیں دے سکتے تو ہم میدان سے غائب ہیں۔‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مطابق ’شاید ایک منفرد دہائی کے بعد، بہت سارے لوگوں کی نظر میں بدقسمتی سے اس میں طاقت کو اہمیت تھی، اور ہماری جانب سے طاقت کا استعمال تھا، اب ہم سفارتی مصروفیات کے دور میں داخل ہو رہے ہیں جو وسیع اور گہری اور ہماری تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں۔‘

امریکہ کی فوجی طاقت اور زوال اور اثرورسوخ کم ہونے کے بارے میں اس وقت زیادہ باتیں ہونا شروع ہوئیں جب گذشتہ سال صدر براک اوباما نے شام پر میزائل حملوں کا فیصلہ واپس لے لیا۔

اس فیصلے کی وجہ سے امریکہ کا اتحادی جیسا کہ فرانس درمیان میں پھنس گیا اور سعودی عرب نے غصے کا اظہار کیا جبکہ ایران اور شام کو اس سے فائدہ پہنچا کیونکہ اس کی وجہ سے امریکی صدر کی جانب سے فوج تعینات کرنے کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا۔

اوباما انتظامیہ نے ایران کے جوہری پروگرام پر اپنے مفادات کو اس طرح وضع کیا جو اس کے اتحادیوں کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

امریکہ نے اپنے سکیورٹی کے ایجنڈے میں ترجیح ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو دی۔

سیاسی خطرات سے متعلق تحقیقاتی اور مشاورتی ادارے یورایشیا نے’امریکہ کے مشکلات سے دوچار اتحاد‘ کو سال 2014 میں عالمی خطرات میں سرفہرست رکھا ہے۔

یورایشیا کی رپورٹ کے مطابق’امریکہ کے حلیف ممالک امریکہ کا دنیا میں ایک غیر واضح اور بہت حد تک سمٹتا ہوا کردار دیکھتے ہیں۔‘

اسی بارے میں