مصر: فوج کا السیسی کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصر میں اخوان المسلمین اور اس کے حامی صدر مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے فوج کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

مصرکی فوجی انتظامیہ نے فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کو ملک کے صدارتی انتخاب امیدوار کی حیثیت سے حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز(سکاف) نے کہا کہ’ لوگوں کا السیسی پر اعتماد کو لوگوں کی ایک آذاد خواہش کے کے طور پر دیکھا جائے۔‘

سکیورٹی ذرائع کے مطابق جنرل السیسی چند ہی دنوں میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کریں گے۔

پیر کو سکاف کا ایک گھنٹہ اجلاس جاری رہا جس میں لوگوں کی طرف سے فیلڈ مارشل السیسی کا صدارتی انتخاب لڑنے کے ’مطالبے‘ پر بات چیت کی گئی۔

اس اجلاس کے دوران عبوری صدر عدلی منصور نے اعلان کیا کہ انھوں السیسی کو فوج کے اعلیٰ عہدے پر ترقی دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ترقی کو ایک اعلیٰ اعزاز سمجھا جاتا ہے جس کے بعد وہ مستعفی ہو جائیں گے۔

سرکاری خبر رساں ادارے مینا کے مطابق سکاف نے فیلڈ مارشل السیسی کو ’متفقہ‘ طور صدارتی امیدوار بننے کی اجازت دی۔ سرکاری اخبار الحرم کے مطابق جنرل السیسی کے چیف آف سٹاف جنرل صدقى صبحى کو فوج کا نیا سربراہ چنا گیا ہے۔

جولائی سنہ 2013 میں اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کو ہٹانے کی کارروائی میں جنرل سی سی کا بے حد اہم کردار تھا۔

محمد مرسی مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے جنہیں مظاہروں کے بعد فوج نے معزول کر دیا گیا تھا۔

سنیچر کو فوج کے حامیوں نے سال 2011 میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے خلاف ہونے والے بغاوت کی تیسری سالگرہ پر ریلیاں نکالیں تھیں۔

جب السیسی نے کہا کہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اپنی حمایت کا ’اندازہ لگانا‘ چاہتے ہیں تو ہزاروں لوگوں نے ملک کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک ریلی کے دوران ان کی حمایت کا اعلان کیا۔

دوسری جانب اتوار کو معزول صدر محمد مرسی کی حامی جماعت اخوان المسلمین اور اس کے اتحادیوں نے جنرل السیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لوگ قاتل کو سزا دلوانا چاہتے ہیں، انھیں صدر نہیں بنانا چاہتے۔‘

صدر مرسی کو معزول کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والی اخوان المسلمین نے ملک میں گذشتہ سنیچر سے 18 روز کی تحریک کا آغاز کیا ہے۔تین سال پہلے صدر مبارک کو 18 دن کے تحریک کے بعد ہی اقتدار کو چھوڑنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔

مصر میں اخوان المسلمین اور اس کے حامی صدر مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے فوج کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں اب تک سینکڑوں لوگ مارے گئے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ملک کی موجودہ حکومت نے اخوان المسلمین کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے. حکومت کا دعویٰ ہے کہ کچھ عرصے سے ملک میں جاری تشدد حملوں کے پیچھے اخوان المسلمون کا ہاتھ ہے۔ اخوان المسلمین اس بات سے انکار کرتی آئی ہے۔

اخوان المسلمین کے خلاف سرکاری کارروائی کے ساتھ ان لوگوں پر بھی تیزی سے کارروائی ہوئی ہے جنہیں فوج مخالف سمجھا جاتا ہے۔ کئی صحافی اور سیکولر سماجی کارکنوں کو بھی سرکاری کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ ملک پر حسنی مبارک کے زمانے میں قابض فوجی تنظیم مصر کو ایک بار پھر سے اپنی گرفت میں لے رہے ہیں۔

چند روز پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ صدر مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے مصر بے مثال پیمانے پر تشدد کا سامنا کر رہا ہے۔

تنظیم نے مصر کی فوج پر الزام لگايا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور طاقت کا بے جا استعمال کر رہی ہے۔

اسی بارے میں