سوچی سرمائی اولمپکس کتنے محفوظ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماسکو نے سوچی میں 37 ہزار اضافی فوج تعینات کی ہے اور اولمپکس کے مقامات کے گرد ’آئینی دائرہ‘ بنا رکھا ہے

حکومت برطانیہ کے حکام نے متنبہ کیا ہے کہ روس میں آئندہ ہفتے ہونے والے سرمائی اولمپکس سے قبل یا اس کے دوران مزید دہشت گردانہ حملے ہو سکتے ہیں۔

سرمائی اولمپکس روس کے شہر سوچی میں آئندہ ہفتے شروع ہو رہے ہیں جن میں دنیا کے 88 ممالک حصہ لے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ روسی شہر وولگوگراد میں گذشتہ دسمبر میں ہونے والے دوہرے بم حملے میں 34 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری شمالی قفقاز کے علاقے داغستان میں موجود اسلام پسند عسکری گروہ نے قبول کی تھی۔

بی بی سی نے سوچی اولمپکس کو لاحق خطرے کے بارے میں برطانیہ کی جانب سے کیے جانے والی جائزہ کو دیکھا ہے۔ اس دستاویز میں قفقاز کے گروہوں میں امارات قفقاز نامی ایک تنظیم کا نام آيا ہے جسے بحیرۂ اسود کے سواحل پر منعقد ہونے والے سرمائی کھیلوں کے لیے اہم خطرہ بتایا گیا ہے کیونکہ اس نے باربار ان کھیلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

اس میں یہ بات بھی ہے کہ گذشتہ جولائی میں چیچن باغی رہنما داکو عمروف نے اپنے حامیوں کو سرمائی کھیلوں کو نشانہ بنانے کی ہدایت کی تھی۔

لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ کیا اس گروہ کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اس قسم کی مخصوص تقریب کو اتنے کم دنوں میں نشانہ بنا سکے؟ سرمائی اولمپکس سات سے 23 فروری تک جاری رہیں گے۔

برطانوی جائزے کے مطابق روسی فوجی آپریشن کے سبب وولگوگراد کے مقابلے سوچی میں حملہ کرنا دہشت گردوں کے لیے زیادہ مشکل ہوگا۔ موسکو نے وہاں 37 ہزار اضافی فوج تعینات کی ہے اور اولمپکس کے مقامات کے گرد ’آہنی دائرہ‘ بنا رکھا ہے جو کہ عوام کی پہنچ سے دور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں مزید تین خاتون خود کش بمبار ہو سکتی ہیں جنہیں ’سیاہ بیوہ‘ کا نام دیا گیا ہے

مکمل طور پر کالے لباس میں ملبوس فوجی اولمپک پارکوں کے آس پاس نظروں کو مانوس لگنے لگے ہیں۔

روسی حکام مشتبہ خاتون خود کش حملہ آور روزانہ ابراہیموف کے تعاقب میں ہے۔ 22 سالہ روزانہ ایک جنگجو کی بیوہ ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سوچی میں پہلے سے موجود ہو سکتی ہے۔

یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں مزید تین خاتون خود کش بمبار ہو سکتی ہیں جنہیں ’سیاہ بیوہ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

برطانوی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امارات قفقاز نے ابھی تک کسی غیر روسی مفاد پر حملہ نہیں کیا ہے۔ مغربی ممالک کے بجائے اس کی جنگ روس سے ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ شام سے لوٹ کر آنے والے روسی جہادیوں سے بھی خطرہ ہے لیکن اس کا امکان کم ہی ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں پانچ ممالک کی اولمپکس کمیٹیوں کو دہشت گردانہ حملے کی دھمکیاں موصول ہوئي ہیں لیکن حکام نے انھیں افواہ قرار دیا ہے۔

لیکن امریکہ سکیورٹی کے بارے میں سنجیدہ ہے۔ اس نے بحیرۂ اسود میں دو جنگی جہاز تعینات کردیے ہیں، جن پر غیر واضح فضائی امداد موجود ہے۔ اس کے علاوہ ہر طرف ایف بی آئی کے ایجنٹس تعینات ہیں اور وہ روس کی انٹیلی جنس سروس کے ساتھ رابطے میں ہے۔

اسی بارے میں