تیونس: پارلیمان نے نیا آئین منظور کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال دو سیکیولر سیاستدانوں کے قتل کے بعد تیونس میں سیاسی بحران شروع ہو گیا تھا

تیونس کی پارلیمان نے سابق صدر زین العابدین بن علی کی تین سال قبل برطرفی کے بعد پہلی بار ملک میں نئے آئین کی منظوری دے دی ہے۔

قومی آئین ساز اسمبلی نے مجوزہ آئین کی حمایت میں 216 میں سے 200 ووٹ دیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے آئین کی منظوری سے کئی ماہ سے جاری اسلامی اور سیکیولر قوتوں کے درمیان کشیدگی کے بعد استحکام لانے میں مدد ملے گی۔

دریں اثنا نامزد وزیرِاعظم مہدی جمعہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے نئی نگران حکومت کے لیے کابینہ کا انتخاب کر لیا ہے۔ اس کابینہ میں زیادہ تر آزاد امیدوار اور ٹیکنوکریٹس شامل ہیں اور یہ انتخابات تک ملک کی باگ ڈور سنبھالے گی۔ انتخابات کے لیے ابھی تک کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اتوار کی شام پارلیمان میں نئے آئین کی منظوری کے بعد ایوان میں تیونس کا پرچم لہرایا گیا اور اراکین ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption قومی آئین ساز اسمبلی نے مجوزہ آئین کی حمایت میں 216 میں سے 200 ووٹ دیے

خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے ایوان کے سپیکر مصطفیٰ بن جعفر نے کہا: ’یہ آئین بے عیب نہ سہی، اتفاقِ رائے سے بنایا گیا ہے۔‘

پارلیمان میں اتفاقِ رائے اس وقت پیدا ہوا جب برسرِاقتدار جماعت حركہ النہضہ نے اسلامی قوانین کے نفاذ کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کیا۔

نئے آئین میں آزادیِ مذہب کو یقینی بنایا گیا ہے تاہم اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے۔

حركہ النہضہ اعتدال پسند اسلامی جماعت ہے جس نے 2011 میں سابق حکمران زین العابدین بن علی کو برطرف کیے جانے کے بعد پہلے جمہوری انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

تاہم سیکیولر جماعتوں کی جانب سے اسے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے جن کا الزام ہے کہ النہضہ کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔ النہضہ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ جماعت ملک کے اقتصادی مسائل کو بھی فوری طور پر حل نہیں کر سکی، جو عوامی احتجاج کی بڑی وجہ ہیں۔

آئین کی منظوری کے لیے پارلیمان سے دو تہائی حامی ووٹوں کی ضرورت تھی۔ اس سلسلے میں مجوزہ دستاویز پر دستخط کی تقریب بھی متوقع ہے۔

گذشتہ سال دو سیکیولر سیاستدانوں کے قتل کے بعد تیونس میں سیاسی بحران شروع ہو گیا تھا۔

اس ماہ کے آغاز میں النہضہ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم علی العریض نے اس کشیدگی کے باعث اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا اور ان کی جگہ مہدی جمعہ نے لے لی جو کہ غیر جماعتی عبوری حکومت کی سربراہی کریں گے۔

اسی بارے میں