برطانیہ شامی مہاجرین کو عارضی پناہ دے گا: نائب وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برطانوی حکومت توقع کر رہی ہے کہ ایسے افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہو گی تاہم اس نے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے

برطانوی نائب وزیر اعظم نک کلیگ کا کہنا ہے کہ برطانیہ شام کے ’سب سے زیادہ غیر محفوظ‘ مہاجرین کو عارضی طور پر پناہ دے گا۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ ان عورتوں اور بچیوں کو جنھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا یا خطرہ ہے کہ ان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، وہ افراد جن پر تشدد کیا گیا، اور بزرگ اور اپاہج افراد کو عارضی پناہ دے گا۔

برطانوی حکومت توقع کر رہی ہے کہ ایسے افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہو گی تاہم اس نے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے۔

برطانیہ کا یہ پروگرام اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے پروگرام سے الگ ہے جس کے تحت جرمنی دس ہزار جبکہ فرانس 500 شامی مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے آمادہ ہے۔

شامی مہاجرین کے لیے برطانوی پروگرام کی مزید تفصیلات وزیر داخلہ ٹیریسا مے بعد میں جاری کریں گی۔

پیر کو ایوانِ نمائندگان کے اجلاس میں حکومت کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے پروگرام میں برطانیہ کی شرکت نہ کرنے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

نک کلیگ نے کہا: ’برطانیہ نے امداد کے لیے 60 کروڑ ڈالر دیے ہیں اور عالمی برادری میں امداد دینے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ لیکن شام کے بحران کے باعث لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی ہے اور اسی لیے ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔‘

نائب وزیر اعظم نے کہا ’اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے پروگرام نے کہا ہے کہ وہ عورتیں اور بچیاں جن کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا یا خطرہ ہے کہ ان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، وہ افراد جن پر تشدد کیا گیا، اور بزرگ اور اپاہج افراد کو ترجیح دے گا۔ اور ہم بھی انھی لوگوں کی ترجیح دیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’افسوس ہے کہ ہم سب کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے لیکن ان کو ضرور تحفظ دیں گے جن کو اشد ضرورت ہے۔‘

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ شامی مہاجرین کو عارضی ویزے دیے جائیں گے اور وہ کم از کم تین سال تک برطانیہ میں قیام کر سکیں گے۔

ان ویزوں میں توسیع کے لیے ہر فرد کے حالات اور ان کو شام میں خطرے کے لحاظ سے کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ وہ سب سے زیادہ غیر محفوظ مہاجرین کی نشاندہی میں برطانیہ کی مدد کرے گا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں جنگی جرائم کے تین سابق ججوں کی حالیہ رپورٹ میں کہا گيا تھا کہ اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ شام میں بغاوت کے آغاز سے جنگی قیدیوں پر منظم طریقے سے تشدد کیا گیا اور 11 ہزار افراد کو پھانسیاں دی گئی تھیں۔

امریکہ اور اقوامِ متحدہ نے اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ اس بات کی اہمیت ظاہر کرتی ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو برطرف کر دیا جائے۔

دوسری جانب شامی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس رپورٹ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ قطر کی ایما پر تیار کی گئی ہے جو شامی باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔

اسی بارے میں