اوباما کی عدم مساوات کے خلاف اقدام کی یقین دہانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption براک اوباما کی مقبولیت اس وقت اپنی کم ترین حدوں کو چھو رہی ہے

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے سالانہ صدارتی خطاب میں قوم سے وعدہ کیا ہے کہ اگر معاشی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے انھیں منقسم کانگریس کو نظر انداز کرنا پڑا تو وہ کریں گے۔

انھوں نے قانون سازی کے بغیر بھی ہر ممکن اقدامات کرنے کا وعدہ کیا۔

انھوں نے ایک ایگزیکیٹیو حکم جاری کیا جس میں وفاقی کانٹریکٹ کے تحت کام کرنے والے افراد کو فی گھنٹہ کم سے کم دس دس ڈالر ملیں گے۔

ان دنوں براک اوباما سنہ 2009 میں پہلی بار صدر بننے کے بعد سے اب تک وہ اپنی مقبولیت کے بعض سب سے خراب دور سے گزر رہے ہیں۔

صدر اوباما نے کہا: ’چلیں ہم اس سال کو فعال اور سرگرم سال بناتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ عدم مساوات بڑھتی جا رہی ہے اور ترقی رک چکی ہے ایسے میں وہ ’قابل عمل ٹھوس تجاویز کا ایک سیٹ فراہم کریں گے جس سے ترقی کی رفتار میں اضافہ ہو، متوسط طبقہ مضبوط ہو اور ان کے لیے مواقع کے نئے زینے تیار ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’امریکہ رک نہیں سکتا اور نہ ہی میں رکوں گا۔ اس لیے جب کبھی بھی اور جہاں کہیں بھی میں قدم اٹھا سکتا ہوں، بغیر قانون سازی کے قدم اٹھاؤں گا تاکہ امریکی خاندانوں کے لیے مواقع وسیع ہو سکیں۔‘

واضح رہے کہ دوسری بار صدر منتخب ہونے کے ایک سال بعد صدر اوباما کے ایجنڈے کی راہ میں حزب اختلاف رپبلکن پارٹی حائل ہے کیونکہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ان کی تعداد زیادہ ہے۔

اپنے خطاب میں صدر اوباما نے کانگریس کے نمائندگان اور تجارتی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ بے روزگاری کے طویل مدتی مسئلے کے حل میں ان کی مزید مدد کریں۔ انھوں نے کانگریس سے اپیل کی کہ وہ بے روزگاری انشورنس کو از سرنو بحال کریں۔ واضح رہے کہ 16 لاکھ افراد کی انشورنس حال ہی میں ختم کی گئی ہے۔

انھوں نے بچوں کی تعلیم، یونیورسٹی کی قابل قدر تعلیم اور دفاتر میں خواتین کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی پر زور دیا۔

انھوں نے کانگریس سے فی گھنٹہ کم سے کم اجرت میں اضافے کی بھی اپیل کی۔ یہ اجرت فی الحال 7.25 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ تاہم اوباما کے کم سے کم اجرت میں اضافے کے اعلان کا نفاذ مستقبل میں ہونے والے معاہدے پر ہی ہوگا۔ اس میں صفائی کرنے والے اور تعمیراتی مزدور بھی شامل ہیں۔

اس کا اعلان اوباما کے خطاب سے قبل کیا گیا اور اس پر رپبلکن پارٹی کی جانب سے تیز ردعمل آيا ہے۔

ایوان کے سپیکر جان بینر نے کہا کہ ’اس کا اثر صفر کے قریب تر ہوگا۔‘ انھوں نے متنبہ کیا کہ اس سے مزید نوکریاں جا سکتی ہیں۔ انھوں نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ان کی پارٹی اس بات کی یقین دہانی کرے گی جناب صدر اس طرح کے ایگزیکیٹیو اقدامات کے ذریعے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز نہ کریں۔

رپبلکن کانگریس رکن پال رائن جو سنہ 2012 کے انتخابات میں پارٹی کی جانب سے نائب صدارت کے امیدوار تھے، انھوں نے کہا کہ ’اس سے ایسا لگتا ہے کہ وہ آئین سے باہر جانا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ کوئی قانون بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے منتخب ایوان نمائندگان اور قانون ساز ادارہ سینیٹ موجود ہے۔ صدر قانون نہیں بنایا کرتے۔‘

بی بی سی کی تجزیہ نگار کیٹی کے کا کہنا ہے کہ اوباما نے گذشتہ سال قوم سے اپنے خطاب میں تین اہم مسئلے امیگریشن، اسلحے اور ماحولیات پر وعدہ کیا تھا لیکن ان میں سے اب تک کسی پر بھی قانون سازی نہیں ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں