عالمی معاشی بحران کے تیسرے دور کا آغاز؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے

ترکی کے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں دگنے سے زائد اضافے کا فیصلہ ایک ایسا قدم ہے جو صرف انتہائی سنگین بحرانوں میں اٹھایا جاتا ہے۔

اصل میں ترکی کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی کرنسی لیرا کی قدر میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک سے سرمایہ تیزی سے باہر جا رہا ہے۔

بھارت، جنوبی افریقہ اور ارجنٹینا جسی دنیا کی دیگر ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں میں بھی اسی طرح سرمایہ باہر نکلنے اور کرنسی کے قدر میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک جب معاشی بحران میں پھنس گئے اور انھوں نے اپنی شرح سود میں ریکارڈ کمی کی تو تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں نے سرمایہ کاروں کے بھاری سرمایہ کاروں کو اپنی جانب کھینچ لیا۔

اب امریکہ اور برطانیہ کی معیشت میں بہتری آ رہی ہے اور توقع ہے کہ وہاں پر شرحِ سود میں دوبارہ اضافہ کر دیا جائے جس سے ترکی اور بھارت سے سرمایہ باہر نکل رہا ہے اور اس وجہ سے ان کے بازارِ حصص اور کرنسی میں گراوٹ آ رہی ہے، افراطِ زر میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان کی معیشتیں خطرناک عدم استحکام سے دوچار ہو رہی ہیں۔

2008 میں بینکوں کے قرضوں کا بحران اور 2010 میں یورپی ممالک کے معاشی بحران کے بعد اب بعض ماہرین دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے چھ سال پہلے شروع ہونے والے عالمی معاشی بحران کا تیسرا دور شروع ہونے کی پیشنگوئی کر رہے ہیں۔

عالمی معیشت کے اس دور میں کم ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بڑی مقدار میں کرنسی کو بازار میں لانے ان رجحانات کو روکنا مشکل ہو گا جنھیں روکنے کی زیادہ ضرورت ہے۔

ریکارڈ سستے سرمائے نے ترقی پذیر ممالک اور ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کے پاس آہستہ آہستہ جانا ہی تھا اور اس سے ان کو فائدہ ہوا، لیکن اب جب معیشت کو سہارا دینے کے اقدام واپس لیے گئے ہیں تو اس صورتحال سے ترکی جیسے مشکل میں پھنسے ملک کو خطرہ ہو گا۔

چین میں سرمائے کی بیرونِ ملک منتقلی پر سخت کنٹرول ہے اور 2008 سے بینکوں کے 15 کھرب ڈالر کے قرضوں کے وجود میں آنے سے ایک دوسرے سے منسلک معیشتوں، خاص کر ایشیا کو سہارا ملا۔

امیر چینیوں کی اپنے سوٹ کیسوں میں سرمایہ بھر بھر کر سنگاپور جیسے ملک منتقل ہونے کی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔ سرمایہ ہمیشہ اس جگہ کا راستہ ڈھونڈ لیتا ہے جہاں آمدن زیادہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے چینی حکومت جلدی جلدی معاشی اصلاحات کی کوششیں کر رہی ہے تاکہ قرضوں پر ترقی کا انحصار کم ہو سکے اور اسی وجہ سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

ان ممالک کا مقدر طاقتور معاشی ادارے امریکہ کے مرکزی بینک کے ہاتھ میں ہے اور ان کا اس پر نہ تو کوئی اثر و رسوخ ہے اور نہ ہی اس پر ان ملکوں کے معاشی حالات کو ٹھیک کرنے کی ذمےداری عائد ہوتی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ ترکی، بھارت اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک تسلسل میں خلل آنے کی توقع کر رہے ہوں اور یہ بھی جانتے ہوں کہ ترقی یافتہ ممالک کی معیشت میں فرضی بہتری کی وجہ سے ان کی کرنسی اور معیشت کی سخت جانی کا امتحان رہے گا۔

اسی بارے میں