گوانتانامو میں اب کون ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گوانتانامو کے خطرناک قیدیوں کو زنجیروں میں جکڑ کر پیش کیا جاتا ہے

گوانتانامو میں قید عبدالمالک احمد عبدالوہاب الرہابی منگل کو ایک بورڈ کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس قید خانے میں مقید دوسرے کئی قیدیوں کی طرح وہ اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔

یہ پہلی پیشی ہے جو صدر اوباما کے دورِ حکومت میں صحافیوں کے سامنے ہو گی اور مزید کے بارے میں منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

یہ قیدیوں کے لیے امید کی کرن ہے جبکہ دوسروں کے لیے بھی اپنی بات کہنے کا موقع ہے کہ کیوں انھیں رہا کیا جائے۔

یہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ ایسے چند افراد ہیں جن کی رہائی کا فیصلہ ہو چکا ہے وہ بھی ابھی تک وہیں قید ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ اوروں کو مقدمے کا سامنا ہے مگر شاید ان پر قسمت اس قدر مہربان نہ ہو سکے۔

امریکی حکام نے کئی سال قبل کہا تھا کہ الرہابی اسامہ بن لادن کا ڈرائیور تھا۔

امریکی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان کے مطابق الرہابی چھ رکنی بورڈ کے سامنے پیش ہوتے ہیں جو ریاست ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں انھیں ویڈیو فیڈ کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ صحافی آرلنگٹن ہی میں ایک دفتر کی عمارت سے انھیں ایک اور ویڈیو فیڈ سے دیکھ سکتے ہیں۔

گوانتانامو بے کو جنوری 2002 میں کھولا گیا تھا اور اس کے عروج کے دور میں وہاں 750 قیدی رکھے گئے تھے۔ آج 155 افراد وہاں قید ہیں اور صدر اوباما نے اسے بند کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گوانتانامو بے کو جنوری 2002 میں کھولا گیا تھا اور اس کے عروج کے دور میں 750 قیدی رکھے گئے تھے

یہ ریویو بورڈ دو سال قبل اس عمل کو تیز کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

اس کی پہلی سماعت میں 36 سالہ محمود عبدالعزیز عبدالمجاہد کو پیش کیا گیا جن پر القاعدہ کے لیے کام کرنے کا الزام تھا مگر ان پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

ان کے تبادلے کی سفارش کی گئی تھی مگر اب بھی وہ وہیں ہیں کیونکہ یمن ان کے لیے بہت غیر محفوظ ملک ہے اور اب تک کسی اور ملک نے انھیں قبول کرنے کی ہامی نہیں بھری ہے۔

فورڈہیم یونیورسٹی کی مارتھا رینر کے مطابق اب تک 77 ایسے قیدی ہیں جن کی اس قیدخانے سے تبادلے کی خاطر بری کیا گیا اور بشمول مجاہد سبھی کا تعلق یمن سے ہے۔

45 کے قریب قیدی سعودی عرب سے ہیں جو ایک مختلف درجہ بندی کے تحت قید ہیں جسے سیٹن ہال کے قانون کے پروفیسر مارک ڈینبو کے مطابق ’غیر معینہ مدت کے لیے حراست‘ کہتے ہیں۔

ان افراد کو بھی بورڈ کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے اور انھیں بھی بری کیا جا سکتا ہے۔

سب سے آخر میں 31 قیدیوں پر مشتمل ایک درجہ بندی ہے۔ اس میں موجود قیدیوں کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ انھیں مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا۔

ان میں سے ایک خالد شیخ محمد ہیں جو 11 ستمبر کے خود بیان کردہ منصوبہ ساز ہیں۔

اس میں دوسرے اہم قیدی ہیں جن میں ولید بن عطاش، امر البلوچی جنہیں عبدالعزیز علی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، رمزی بن الشیبہ اور مصطفیٰ الہوساوی شامل ہیں۔

انھیں ایک جنگی جرائم کے فوجی ٹریبونل میں مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی بریگیڈیئر جنرل اور چیف پراسیکیوٹر مارک مارٹنز کا کہنا ہے کہ ’یہ کمیشن سست روی سے کام کر رہا ہے مگر طریقے سے مقدمے کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔‘

دوسرے افراد کو مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

2002 میں حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک قیدی ابو زبیدہ القاعدہ کے اہم رکن ہیں۔ انھیں سی آئی اے کے تحت ایک خفیہ جگہ پر رکھا گیا تھا۔

حکام نے ان کے لیے تفتیش کا نیا نظام تشکیل دیا تھا۔ جان ریزو کے مطابق زبیدہ اب ایک خفیہ انتہائی حفاظت والے قیدخانے کے کیمپ نمبر 7 میں قیدی نمبر 10016 ہیں جو دنیا کی دسترس سے دور ہے۔

یہاں وکلا کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے اور انھیں بیس فٹ بائی دس فٹ کے لکڑی کے ڈبے میں لایا جاتا ہے اور ان کے ہاتھوں میں زنجیریں ہوتی ہیں جنھیں فرش پر لگے تالوں کے ساتھ باندھا جاتا ہے مگر ان پر کبھی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔

ان کے وکیل جوزف مارگولیس کا کہنا ہے کہ ’وہ کبھی بھی مقدمے کا سامنا نہیں کریں گے۔‘

ان کے مطابق ’برسوں پہلے حکام نے غلط طور پر انھیں شناخت کیا تھا اور انھیں اس پرتشدد پروگرام کا نشانہ بنایا گیا اور اب وہ مشکل حالت میں ہیں۔‘

مارگولیس کاکہنا ہے کہ ’یہ ایک شرمناک صورتِ حال ہے جو اس پروگرام کو شبے میں ڈالتی ہے۔ انھوں نے ایک شیر کو اس کی دم سے قابو کیا ہے اور انھیں نہیں معلوم کہ اب اس کے ساتھ کیا کریں۔‘

اسی بارے میں