برطانوی شہری کی سزائے موت پر کیمرون کی تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ہماری دیرینہ پالیسی ہے کہ ہم سزائے موت کی ہر حالت میں مخالفت کرتے ہیں: ڈیوڈ کیمرون

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے پاکستان میں ایک ذہنی مریض برطانوی شخص کو توہینِ رسالت کے جرم میں سزائے موت سنائے جانے پر ’شدید تشویش‘ ظاہر کی ہے۔

بدھ کو لندن میں برطانوی پارلیمان میں محمد اصغر کے معاملے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان کو برطانوی تشویش سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’ہم اس معاملے میں انتہائی سنجیدگی سے کام لے رہے ہیں اور یہ بات ہر سطح پر واضح کر دی گئی ہے۔‘

سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا سے تعلق رکھنے والے محمد اصغر 40 برس تک برطانیہ میں مقیم رہ چکے ہیں اور ان کے خاندان کے افراد اب بھی وہاں ہیں۔

انھیں سنہ 2010 میں پاکستان کے شہر راولپنڈی سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب انھوں نے مبینہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔گذشتہ ہفتے راولپنڈی کی ہی ایک عدالت نے 70 سالہ محمد اصغر کو موت کی سزا سنائی۔

اے ایف پی کے مطابق اصغر کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان پر لگنے والے الزامات جھوٹے ہیں اور یہ معاملہ دراصل جائیداد کے تنازعے کا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اصغر ’سکِٹسوفرینیا‘ یا ’انتشارِ شخصیت‘ کے مریض ہیں اور انھوں نے جیل میں خودکشی کی کوشش بھی کی تھی۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ’مجھے محمد اصغر کو سنائی جانے والی سزائے موت پر شدید تشویش ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ ہماری دیرینہ پالیسی ہے کہ ہم سزائے موت کی ہر حالت میں مخالفت کرتے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستانی حکام کو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔‘

برطانوی وزیراعظم نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ دفترِ خارجہ کی برطانوی وزیر سعیدہ وارثی نے پیر کو اس سلسلے میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے بھی بات کی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں توہینِ رسالت کے جرم کی سزا موت ہے، تاہم اعلیٰ عدلیہ ماتحت عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی توہینِ رسالت کی سزاؤں کو نامکمل شواہد کی بنیاد پر رد کرتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں