کیمیائی ہتھیاروں کی منتقلی میں سستی پر امریکی ’تشویش‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز نے شامی کیمیائی ہتھیاروں کو 30 جون تک تلف کرنا ہے

امریکہ نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے بیرونِ ملک منتقلی کے نظام الاوقات میں سستی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بات امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے جمعرات کو پولینڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ وہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے بیرونِ ملک منققلی میں دیر کی وجوہات نہیں جانتے تاہم اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) نے شامی کیمیائی ہتھیاروں کو 30 جون تک تلف کرنا ہے۔

امریکی سفیر رابرٹ مِکولک نے ایک بیان میں او پی سی ڈبلیو سے کہا ہے کہ شام سے کیمیائی ایجنٹ اور اہم کیمیکلز دور کرنے کا عمل کمزور پڑ گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شامی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ تلف کیے جانے والے کیمیائی ہتھیاروں میں سے اب تک صرف چار فیصد ہتھیاروں کو ضائع کیا گیا ہے۔

رابرٹ مِکولک نے کہا کہ اب یہ شام پر منحصر ہے کہ وہ ان کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے میں مزید دیر نہ کرے اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کو پوری کرتے ہوئے اس کامیاب بنائے۔

اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ اس منصوبے کے تحت شامی حکام ان کیمیائی ہتھیاروں کو بحفاظت اور جلد تلف کرنے کے لیے ملک سے باہر منتقل کرنے کے پابند ہیں۔

ڈنمارک اور ناروے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے گارگو جہاز فراہم کرنے کے علاوہ انھیں اٹلی تک پہنچانے میں فوجی دستے بھی فراہم کر رہے ہیں۔

شام میں جاری تنازعے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ گذشتہ برس اگست میں اس وقت سامنے آیا تھا جب شامی دارالحکومت دمشق کی نواحی بستی غوطہ میں کیمیائی حملے کے بعد امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس کیمیائی حملے میں 1400 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور اقوام متحدہ نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا موقف ہے کہ اس حملے کی ذمہ دار شامی حکومت تھی جبکہ روس اور شام دونوں کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال حکومت نے نہیں بلکہ باغیوں نے کیا تھا۔

اسی بارے میں