حزبِ اختلاف اشتعال پیدا کر رہی ہے: یوکرائن کے صدر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکومت مخالف مظاہرین صدر سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں

یوکرائن کے صدر وکٹر یانوکووچ کا اصرار ہے کہ وہ اور ان کی حکومت ملک میں جاری بحران پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن مخالفین اشتعال پیدا کر رہے ہیں۔

کیو اور ملک کے دیگر شہروں کئی ہفتوں سے جاری پرتشدد حکومت مخالف احتجاج کے بعد صدر کی طرف سے یہ بیان یوکرانی زبان میں صدارتی ویب سائٹ پر سامنے آیا۔

انھوں نے کہا کہ’ہم نے وہ تمام ذمہ داریاں پوری کیں ہیں۔۔تاہم حزبِ اختلاف اشتعال انگیزی پھیلا رہی ہے اور چند رہنماووں کے سیاسی عزائم کی خاطر وہ لوگوں کو ٹھنڈ میں کھڑا ہونے کہہ رہی ہے۔ میرے خیال میں یہ غلط ہے۔‘

حکومت مخالف مظاہرین صدر سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ جما لیا ہے اور وہ سخت سردی میں رکاوٹوں پر پیرا دے رہے ہیں۔

یوکرائن کے صدر نے مزید کہا کہ حزبِ اختلاف’ بغیر سوچے غیر ذمہ دارانہ‘ اعلانات کر رہی ہے اور وہ عوام کی زندگی اور صحت سے زیادہ اپنے سیاسی ریٹنگ کا سوچ رہی ہے۔‘

انھوں نے مصالحاتی رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ’میں اس بات کا خیال کرتے ہوئے کہ حکومت غلطیاں کرتی ہیں، لوگوں کے مطالبات اور عزائم کو سمجھنے کا مظاہرہ کروں گا۔۔۔میرے خیال میں ہم مل کر یوکرائن اور اس کے عوام کی زندگی کو معمول پر لا سکتے ہیں۔‘

اس صدارتی بیان کے بعد یہ اعلان بھی کیا گیا کہ 63 یانوکووچ بیماری کی وجہ سے رخصت پر ہیں۔ صدارتی ویب سائٹ پر کیا گیا تھا کہ وہ سانس کے عارضے میں مبتلا ہیں اور انھیں سخت بخار ہے۔

خِیال رہے کہ حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئے جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گذشتہ ہفتے صدر ملک کے وزیرِ اعظم اور ان کے کابینہ کے استعفے منظور کیے تھے

صدر وکٹر یانوکووچ نے اس وقت کہا تھا کہ انھوں نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت کے ایک معاہدے کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت یورپی یونین ممالک کے سامان کے لیے یوکرائن کی سرحدیں کھولی جاتیں اور لوگوں کی آمدو رفت میں آسانیاں پیدا ہوتیں۔

انھوں نے کہا کہ تھا وہ اس معاہدے کے لیے روس کے ساتھ اپنی تجارت کی قربانی پیش نہیں کر سکتے کیونکہ روس اس معاہدے کا مخالف ہے۔

گذشتہ ہفتے صدر ملک کے وزیرِ اعظم اور ان کے کابینہ کے استعفے منظور کیے تھے جبکہ سینیئر عہدوں کی حزبِ اختلاف کو پیشکش کی گئی تھی جو انھوں نے مسترد کر دی تھی۔

ملک کی پارلیمان نے مظاہروں پر پابندی کے قانون کو ختم کرتے ہوئے، سرکاری عمارتوں کو خالی کرنے کی شرط پر زیرِ حراست مظاہرین کے لیے معافی کا قانون بھی پاس کیا تھا۔

اسی بارے میں