بھارتی ہوابازی کی درجہ بندی میں تنزلی

Image caption اس درجہ بندی میں کمی کے نتیجے میں بھارتی ہوائی کمپنیاں امریکہ میں مزید پروازیں شروع نہیں کر سکیں گی اور ایئر انڈیا اور جیٹ ایئر ویز کی موجودہ پروازوں پر اضافی جانچ پڑتال کی جائے گی

امریکہ کی ہوابازی کی نگران ادارے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن یعنی ایف اے اے نے بھارت کی ہوابازی کی صنعت کے درجے میں تنزلی کر دی ہے جس کے بعد اب اس کا درجہ پاکستانی ہوابازی سے کم ہو گیا ہے۔

ایف اے اے کی رپورٹ میں بھارت کی درجہ بندی کو کیٹگری 1 سے گیٹگری 2 پر کر دیا ہے۔

امریکی نگران ادارے کی جانب سے یہ قدم بھارت کی ہوابازی کی صنعت کو ایک بڑے دھچکا ہے۔

طیارے کو حادثہ، 158 ہلاکتوں کا خدشہ

منگلور طیارہ حادثہ: بلیک باکس برآمد

فضائی حادثے کی تحقیقات شروع

یاد رہے کہ بھارت کو کیٹگری 1 کی ریٹنگ 1997 میں ملی تھی اور اس درجہ بندی میں تنزلی کے بعد اب وہ پاکستان سے بھی نیچے چلا گیا ہے جس درجہ بندی میں بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور گھانا ہیں۔

یہ قدم ایف اے اے کی جانب سے بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کمرشل ایوی ایشن کے آڈٹ کے نتیجے میں اٹھایا گیا جو ستمبر میں کیا گیا اور اس میں 33 ایسے معاملات تھے جن میں کارکردگی غیر تسلی بخش تھی۔

اس درجہ بندی میں کمی کے نتیجے میں بھارتی ہوائی کمپنیاں امریکہ میں مزید پروازیں شروع نہیں کر سکیں گی اور ایئر انڈیا اور جیٹ ایئر ویز کی موجودہ پروازوں پر اضافی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

جیٹ ایئر ویز کا امریکی ہوائی کمپنی یونائٹڈ ایئرلائن کے ساتھ کوڈ شیئر معاہدہ ہے جس میں دونوں کمپنیاں ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ پروازیں چلاتی ہیں جبکہ ایئر انڈیا سٹار الائنس میں شامل ہو رہی ہے۔

بھارت میں ہوابازی کے نگران ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل کمرشل ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل اجت کمار نے اس بات کی تصدیق کی ہے بھارت کی درجہ بندی کو کم کر کے کیٹگری 2 میں کر دیا گیا ہے۔

ایف اے اے کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو مزید تجربہ کار معائنہ کاروں کا ضرورت ہے جو بھارت میں موجود تمام طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے تحفظ کے معاملات پر نظر رکھ سکتے ہیں۔

بھارت کے ہوابازی کے وزیر اجیت سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’یہ فیصلہ بہت مایوس کن اور حیران کن ہے۔‘

یاد رہے کہ بھارت کو کیٹگری 1 کی ریٹنگ 1997 میں ملی تھی اور اس درجہ بدی میں کمی کے بعد اب وہ پاکستان سے بھی نیچے چلا گیا ہے جس درجہ بندی میں بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور گھانا ہیں۔

اسی بارے میں