یوکرین کے مسئلے پر امریکہ اور روس میں تلخی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اجلاس میں امریکی اور روسی وزرائے خارجہ نے ایک دوسرے پر تنقید کی

جرمنی کی شہر میونخ میں ایک سکیورٹی کانفرنس کے دوران عالمی طاقتوں کے درمیان یوکرین کے بحران پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

اجلاس میں یورپی کونسل کے صدر نے کہا کہ ’یوکرین کا مستقبل یورپ کے ساتھ ہے‘ جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ امریکی حمایت یافتہ یوکرین جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا۔

میونخ سکیورٹی کانفرنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مغربی ممالک پر یوکرین میں جاری پرتشدد مظاہروں کے حوالے سے دوہرے معیار کا الزام عائد کیا۔

واضح رہے کہ یوکرین میں پرتشدد مظاہرے نومبر سے جاری ہیں جب اس نے روس کی معاشی مدد کے لیے یورپی یونین کے معاہدے کو رد کردیا تھا۔

یاد رہے کہ یہ سالانہ اجلاس ہے جس میں عسکری اور سیاسی امور پر بات چیت ہوتی ہے۔

یورپی یونین کے صدر نے اپنے افتتاحی بیان میں یورپی یونین کی جانب سے یوکرین کو قریبی روابط کی پیشکش کا ذکر کیا۔

انھوں نے کہا ’یہ پیشکش ابھی بھی ہے۔ یوکرین کا مستقبل یورپی یونین کے ساتھ ہے۔‘

تاہم جان کیری نے وسط اور مشرقی یورپ کے کئی ممالک میں بدعنوانی کے بارے میں بات کی۔

انھوں نے کہا ’شہریوں کی خواہشات ایک بار پھر بدعنوانی کے باعث کچلی جارہی ہیں۔ رقم کو سیاسی مخالفین کو ختم کرنے اور سیاستدانوں اور میڈیا کو حریدنے اور عدلیہ کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا ’کہیں بھی جمہوریت کے لیے جدوجہد نہیں ہو رہی اور یورپی ممالک کا مستقبل یوکرین سے کہیں زیادہ اہم ہے۔امریکہ اور یورپی یونین یوکرین کی عوام کے ساتھ ہیں۔‘

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یوکرین کو انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور روس اس بحث میں نہیں پڑنا چاہ رہا۔

انہوں نے کہا ’یوکرین کے لوگوں کو پرتشدد مظاہرے کرنے پر اکسایا جا رہا ہے اور اس کا جمہوریت کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ہم کیوں نہیں سنتے کہ ان لوگوں پر تنقید کی جا رہی ہے جو سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرتے ہیں؟‘

خِیال رہے کہ حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئے جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی۔

صدر وکٹر یانوکووچ نے اس وقت کہا تھا کہ انھوں نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت کے ایک معاہدے کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت یورپی یونین ممالک کے سامان کے لیے یوکرائن کی سرحدیں کھولی جاتیں اور لوگوں کی آمدو رفت میں آسانیاں پیدا ہوتیں۔

انھوں نے کہا کہ تھا وہ اس معاہدے کے لیے روس کے ساتھ اپنی تجارت کی قربانی پیش نہیں کر سکتے کیونکہ روس اس معاہدے کا مخالف ہے۔

اسی بارے میں